غیر ملکی سرمایہ کاری غائب؟ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 34 فیصد کمی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی وزارت خزانہ نے اپنی ماہانہ اقتصادی رپورٹ (مارچ 2026) جاری کر دی ہے جس میں مالی سال 2025-26 کے پہلے آٹھ ماہ (جولائی تا فروری) کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 33.4 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح پورٹ فولیو انویسٹمنٹ بھی منفی 490.8 ملین ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے منفی 211 ملین ڈالر سے زیادہ خسارے کی نشاندہی کرتا ہے۔

منفی رجحان کے باوجود پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں 24.6 فیصد اضافہ، مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 13.6 فیصد اضافہ اور کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 26 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ جولائی سے فروری کے دوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ سال کے 1.582 ارب ڈالر سے کم ہو کر صرف 704.1 ملین ڈالر رہ گئی۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 700 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جبکہ برآمدات میں 5.4 فیصد کمی آئی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ترسیلات زر میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

مہنگائی کے حوالے سے فروری 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 7 فیصد رہی جبکہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کی اوسط مہنگائی 5.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا جس میں آٹوموبائل، ٹیکسٹائل اور فوڈ سیکٹرز نے اہم کردار ادا کیا۔

مالیاتی شعبے کی بات کی جائے تو وفاقی حکومت کا مالی خسارہ اس عرصے میں بہت کم ہو کر 64.7 ارب روپے رہ گیا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ خسارہ 2,070 ارب روپے تک پہنچا ہوا تھا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس وصولیاں 10.6 فیصد بڑھا کر 8,122 ارب روپے تک پہنچا دیں۔

اسٹاک مارکیٹ میں فروری کے مہینے میں مندی کا رجحان دیکھا گیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 16,112 پوائنٹس کی کمی آئی البتہ پورے مالی سال کے دوران مارکیٹ نے مجموعی طور پر مثبت کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹ میں زرعی شعبے میں بہتری کے آثار بھی اجاگر کیے گئے ہیں اور گندم کی پیداوار میں اضافے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ صنعتی سرگرمیاں بتدریج بہتر ہو رہی ہیں اور مختلف اصلاحاتی اقدامات معیشت کو بیرونی دباؤ سے زیادہ محفوظ بنا رہے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومتی پالیسیوں اور احتیاطی تدابیر کی بدولت صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر وزارت خزانہ کی رپورٹ معیشت کی صورتحال کو محتاط مگر مثبت سمت میں قرار دیتی ہے۔

Related Posts