بجلی مزید مہنگی ہو جائے گی؟ پاور سیکٹر کا گردشی قرضے ایک ہزار 837 ارب روپے تک پہنچ گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

فروری 2026 کے اختتام تک ملک میں گردشی قرضے کا حجم 1,837 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے تاہم جون 2025 کے بعد ہونے والے اضافے کو عارضی قرار دیا جا رہا ہے۔

پاور ڈویژن کے بیان میں بتایا گیا کہ گردشی قرضے کی صورتحال طے شدہ اہداف کے دائرے میں ہے اور مالی سال کے اختتام تک اسے ختم کرنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ماہانہ یا موسمی اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہوتے ہیں اور اس کا براہ راست اثر صارفین پر نہیں پڑتا۔

پاور ڈویژن کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور جولائی 2025 سے فروری 2026 کے دوران نقصانات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 48 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جسے بہتر انتظامی اقدامات اور مالی نظم و ضبط کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام نے واضح کیا کہ پاور سیکٹر کے لیے مختص بجٹ 893 ارب روپے ہی برقرار ہے اور اس دوران کسی اضافی گرانٹ کا اجرا نہیں کیا گیا۔ آئندہ برسوں کے لیے گردشی قرضے میں کمی، وصولیوں اور لائن لاسز سے متعلق اہداف پر کام جاری ہے، تاہم انہیں ابھی حتمی شکل دینا باقی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام پاور پروڈیوسرز، بشمول سی پیک منصوبوں کو ادائیگیاں مقررہ اصولوں کے مطابق کی جا رہی ہیں اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتا جا رہا۔ حکومت نے آئندہ چھ برسوں میں بغیر بجلی کی قیمت بڑھائے گردشی قرضے کے خاتمے کا ہدف بھی مقرر کر رکھا ہے جس کے لیے اصلاحات پر مبنی جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔

Related Posts