صوبہ سندھ میں مبینہ کرپشن کا ایک سنسنی خیز کیس سامنے آیا ہے جس میں گندم کی بوریوں میں مٹی ملا کر وزن پورا کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ خردبرد لاڑکانہ، بدین اور سندھ کے دیگر شہروں کے سرکاری گوداموں میں کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گندم میں مٹی شامل کرکے ملکی خزانے کو خطیر نقصان پہنچایا گیا۔ اس ضمن میں محکمہ خوراک کے ایک انسپکٹر کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ برطرف انسپکٹر پر 77 کروڑ روپے کی گندم میں خردبرد کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ معاملہ نہ صرف عوام کے لیے کھانے کی اشیاء کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ سندھ حکومت کے انتظامی نظام اور شفافیت پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔
گندم میں مٹی ملائے جانے کی خبروں پر عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








