سندھ حکومت اور عالمی بینک کی مالی معاونت سے شروع کیے گئے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ نے ایک طرف توانائی تک رسائی کے بڑے ہدف کو سامنے رکھا تو دوسری طرف شفافیت، قانونی تقاضوں اور مالی معاملات کے حوالے سے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔
یہ منصوبہ بنیادی طور پر تقریباً 200,000 گھروں میں سولر ہوم سسٹمز کی فراہمی کے لیے بنایا گیا تھا جس میں ہر گھر کو سولر پینل، بیٹری، کنٹرولر، فان اور بلب جیسے سولر آلات ملنے تھے جبکہ مالی حوالے سے اس کی لاگت تقریباً $100 ملین (تقریباً 27–28 ارب روپے) بتائی گئی ہے۔
نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلیکمیونیکیشن کارپوریشن پاکستان کی ایک سرکاری کمپنی ہے جو اس پراجیکٹ میں NRTC Energies کے نام سے ایک ذیلی اکائی کے ذریعے شامل ہوا۔
این آر ٹی سی اور اس کے ذیلی ادارے NRTC Energies نے اپنی ویب سائٹ اور پبلک ذرائع میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 1000+ سولر سسٹمز فراہم کیے جوکہ مجموعی طور پر 200+ میگاواٹ (MW) سولر توانائی کا ڈپلائمنٹ کیا ہے اور یہ سسٹمز گھروں، کاروباروں، صنعتی یونٹس اور فارموں میں انسٹال کیے گئے ہیں۔
سندھ سولر انرجی پروجیکٹ کی سرکاری دستاویزات یا ورلڈ بینک کی رپورٹس میں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ این آر ٹی سی نے 200,000 یونٹس میں سے کتنے یونٹس فراہم کیے۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے قانونی اعتراضات
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے سندھ حکومت کو خط اور رپورٹس کے ذریعے متعدد اعتراضات اٹھائے ہیں، جن میں اہم نکات یہ ہیں:
Direct Contract (براہِ راست معاہدہ)
NRTC Energies کو کھلے ٹینڈر کے بغیر معاہدہ دیا گیا جو کہ ملکی قواعد و ضوابط کے خلاف ہے۔ عام طور پر بڑے پراجیکٹس میں کھلے ٹینڈر کے ذریعے کمپنیوں کو منتخب کیا جانا ضروری ہے۔
ذیلی کمپنیوں کا استعمال:
معاہدے کی شروعات میں NRTC Energies کو منظور کیا گیا مگر بعد میں کنٹریکٹ ذیلی کمپنیوں (sub‑contractors) کے ذریعے عمل میں آیا، جس پر قانونی پیچیدگیاں اور سوالات پیدا ہوئے۔
پیشگی ادائیگیاں:
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق تقریباً 6 ارب روپے سے زائد کی پیشگی ادائیگیاں کی گئیں جب کہ سپلائی کی مکمل تصدیق موجود نہیں تھی۔
قانونی تقاضوں کے ساتھ مطابقت:
متعدد قانونی شقیں، خاص طور پر SPPRA اور G2G (حکومت سے حکومت) کے تحت ہونے والے عمل، کی خلاف ورزی کے امکانات پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
ان اعتراضات کی بنیاد پر Transparency International نے مکمل انکوائری، آڈٹ، اور شفاف رپورٹنگ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوامی فنڈز کا صحیح استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
مخلتف اخبار اور ٹی وی چینلز کے مطابق
بین الاقوامی اور مقامی سپلائرز
پروجیکٹ میں کئی بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں نے حصہ لیا جن میں سے بعض کے نام اور کردار مندرجہ ذیل ہیں:
M/s Shenzhen LEMI Technology Development Co. Ltd
(شینزین لی ایم آئی ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ کمپنی – چین)
چین کی کمپنی ہے جس نے سولر پینلز اور ہوم سسٹمز فراہم کیے۔
چونکہ یہ کمپنی پاکستان میں براہِ راست رجسٹرڈ نہیں تھی، لہذا اس کے آلات اور یونٹس M/s Beyond Green Solar Solutions (بیانڈ گرین سولر سلوشنز – پاکستان) کے ذریعے درآمد کیے گئے اور سپلائی کیے گئے۔
EcoEnergy
(ایکو انرجی – پاکستان)
پاکستان میں کام کرنے والی پرائیویٹ کمپنی ہے، جو برطانوی کمپنی Bboxx Ltd (بی بکس لمیٹڈ – برطانیہ) کے ساتھ شراکت میں کام کرتی ہے۔
اس شراکت کے تحت bPower50 سولر ہوم سسٹمز اور دیگر شمسی توانائی کے حل فراہم کیے جاتے ہیں۔
CEO: شازیہ خان (توانائی اور ماحولیات کی ماہر)
کمپنی کے بانیان میں Mansoor Hamayun, Christopher Baker‑Brian، اور Laurent Van Houcke شامل ہیں۔
D.light Design Ltd
(ڈی لائٹ ڈیزائن لمیٹڈ – امریکہ)
ایک عالمی سطح کی شمسی توانائی کمپنی، جس کا ہیڈکوارٹر سان فرانسسکو، کیلیفورنیا، USA میں ہے۔
کمپنی شمسی توانائی کے آلات اور سسٹمز کے ڈیزائن اور تقسیم میں مہارت رکھتی ہے، اور پاکستان میں بھی متعدد پارٹنرشپس کے تحت کام کرتی ہے۔
CEO: Nedjip Tozun
سپلائی اور انسٹالیشن کا جائزہ
متعدد ذرائع اور رپورٹس کے مطابق، سندھ سولر انرجی پراجیکٹ کے تحت تقریباً 170,000 یونٹس گھروں میں نصب ہوئے ہیں، جب کہ اصل ہدف 200,000 یونٹس تھا۔
تاہم، یہ واضح نہیں کہ کون سی کمپنی نے کتنے یونٹس فراہم کیے، اور اس کا سرکاری بریک ڈاؤن عوامی ریکارڈ میں دستیاب نہیں۔
قانونی اور انکوائری اقدامات
سرکاری تحقیقات: پارلیمانی کمیٹیوں نے پراجیکٹ میں شفافیت کے مسائل، پیشگی ادائیگیوں اور قانونی عمل کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں، اور مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
NAB انکوائری: پاکستان کے انٹی کرپشن اداروں نے ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کی چھان بین شروع کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فنڈز کا استعمال اور سپلائی کا عمل قانونی طور پر ہوا یا نہیں۔
سندھ سولر انرجی پروجیکٹ ایک اہم حکومتی توانائی اقدام رہا ہے جس سے لاکھوں افراد کو شمسی توانائی تک رسائی ملنی تھی تاہم شفافیت، قانونی تقاضوں کی پاسداری، اور فنڈز کے استعمال کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات نے اس پراجیکٹ کو خبروں اور مباحثے کا موضوع بنا دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








