ناسا کا مشن 4خلابازوں کو لے کر 50سال بعد ایک بار پھر چاند کیلئے روانہ

تازہ ترین

تازہ ترین

چاند
(فوٹو: سائیٹیک ڈیلی)

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے خلائی مشن آرٹیمس دو کے تحت چار خلا بازوں کو چاند کی جانب روانہ کر دیا ہے، جو پچاس سال سے زائد عرصے کے بعد چاند کے گرد چکر لگانے والا پہلا انسانی مشن ہوگا، جسے خلائی تحقیق میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ناسا کے طاقتور ایس ایل ایس راکٹ اور اوریون خلائی جہاز میں سوار عملہ دس روزہ آزمائشی پرواز پر ہے، جس کا مقصد اہم نظاموں کی جانچ، دستی آپریشنز کی مشق اور انسانوں کو کئی دہائیوں بعد سب سے زیادہ فاصلے تک لے جانا ہے۔

یہ تاریخی مشن  کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ پیڈ 39 بی سے یکم اپریل کو شام چھ بج کر پینتیس منٹ پر شروع ہوا، جہاں سے اوریون میں سوار خلا باز چاند کے گرد سفر کر کے دوبارہ زمین پر واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ یہ مشن خلائی تحقیق کے نئے دور کا آغاز ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وژن کو آگے بڑھاتا ہے اور انسانیت کو دوبارہ چاند تک لے جا کر مستقبل کی خلائی مہمات کی بنیاد رکھتا ہے۔

جیرڈ آئزک مین نے مزید کہا کہ آرٹیمس 2 محض ایک مشن نہیں بلکہ چاند پر مستقل قیام کی جانب ایک قدم ہے، جو آئندہ نسلوں کے لیے نئی راہیں کھولے گا اور انسانوں کو مزید دور دراز خلائی مقامات تک پہنچانے میں مدد دے گا۔

واضح رہے کہ اس مشن میں ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن جیسے خلا باز شامل ہیں، جو خلاء میں پہنچنے کے بعد شمسی پینل کھول کر توانائی حاصل کریں گے جبکہ عملہ اور زمینی ٹیمیں تمام اہم نظاموں کی مسلسل جانچ بھی جاری رکھیں گی۔

Related Posts