بارش کے بعد کراچی میں سیلابی صورتحال! پوش ایریا و نشیبی علاقے زیر آب؛ ویڈیوز وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

کراچی میں نئے مغربی سسٹم کے تحت موسلا دھار بارش نے پورے شہر کو شدید متاثر کر دیا جس کے باعث شہر کے مختلف حصوں میں اربن فلڈنگ سے سڑکیں تالاب بن گئیں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

بارش کے باعث ملیر، لانڈھی، شاہراہِ فیصل، کلفٹن، ڈیفنس، گلستان جوہر، طارق روڈ، کیماڑی اور بلدیہ ٹاؤن سمیت کئی اہم علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ شہری گھروں اور سڑکوں پر پھنس کر رہ گئے۔ لانڈھی میں تو بارش کے پانی کے ساتھ کچرا بھی سڑکوں پر بہنے لگا جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔

آئی آئی چندریگر روڈ، صدر، شادمان ٹاؤن، گلشن معمار، احسن آباد، نارتھ کراچی، پاور ہاؤس چورنگی، اورنگی ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، پرانا شہر، ملیر ہالٹ اور رفاہ عام جیسے علاقوں میں بھی شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔ ماڑی پور میں ژالہ باری بھی ہوئی۔

شارع فیصل، نیپا چورنگی، لیاقت آباد، گلشن چورنگی، جیل چورنگی اور گرومندر جیسے مصروف چوراہوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے بھاری ٹریفک جام ہو گیا اور کئی گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں۔

محکمہ موسمیات نے پہلے ہی اس مغربی سسٹم کی پیش گوئی کر دی تھی جس کے باوجود شہر کی انتظامیہ کی طرف سے کوئی مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے جا سکے۔ پانی کی نکاسی کا نظام ایک بار پھر ناکام ثابت ہوا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ بارش کی پیش گوئی کے باوجود بلدیاتی عملے کو بروقت تیار نہیں کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر بار بارش کے موسم میں یہی صورتحال دہرائی جاتی ہے لیکن میئر اور ان کی ٹیم اب تک شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔

دوسری جانب میئر کراچی نے بلدیاتی عملے کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریپڈ ریسپانس ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے بھی تمام ڈپٹی کمشنرز کو فیلڈ میں موجود رہنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں 4 اپریل تک جاری رہ سکتی ہیں اور جمعہ کو بھی کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں مزید بارش کا امکان ہے۔ شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں اور احتیاط برتیں۔

شہر کی انتظامیہ کو چاہیے کہ اب صرف ردعمل کی بجائے پیشگی اقدامات پر توجہ دے تاکہ آئندہ ایسے حالات میں شہریوں کو کم سے کم تکلیف ہو۔

Related Posts