امریکہ میں 100 سے زائد بین الاقوامی قوانین کے ماہرین نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے سنگین جنگی جرائم قرار دے دیا۔
امریکہ میں مقیم بین الاقوامی قانون کے 100 سے زائد ماہرین نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فوجی حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے مذمت کی گئی ہے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی افواج کی کارروائیاں اور اعلیٰ امریکی حکام کے بیانات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قانون کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر اور ایران کی جانب سے کسی فوری خطرے کے قابلِ اعتبار ثبوت کے بغیر شروع کی گئی۔
خط میں کہا گیا کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف طاقت کا استعمال صرف اسی صورت میں جائز ہے جب کسی حقیقی یا فوری مسلح حملے کے خلاف دفاع کیا جا رہا ہو یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کی اجازت دے۔ سلامتی کونسل نے اس حملے کی اجازت نہیں دی۔
ماہرین کی تشویش چار پہلوؤں پر مرکوز ہے:
جنگ شروع کرنے کے فیصلے کی قانونی حیثیت
جنگ کے دوران کارروائیوں کا طریقہ
اعلیٰ حکام کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات
امریکی حکومت کے اندر شہری تحفظ کے نظام کو ختم کرنا، جسے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بلا روک ٹوک جنگ کے نقطہ نظر سے جوڑا گیا ہے۔
ماہرین نے جنگ کے پہلے دن ایران کے شہر میناب کے ایک پرائمری اسکول پر حملے کا ذکر کیا جس میں کم از کم 175 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔ اس کے علاوہ اسپتالوں، پانی کی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
خط میں کہا گیا کہ ہم اسکولوں، طبی مراکز اور گھروں کو نشانہ بنانے والے حملوں پر شدید تشویش رکھتے ہیں۔
اس خط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت اعلیٰ امریکی حکام کے عوامی بیانات کی بھی مذمت کی گئی۔ خاص طور پر مارچ کے وسط میں ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران پر صرف تفریح کے لیے حملے کر سکتا ہے۔
اسی طرح پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ کے اس بیان کا بھی ذکر کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ بیوقوفانہ اصولوں کے تحت جنگ نہیں لڑتا۔
خط میں کہا گیا کہ اعلیٰ حکام کے عوامی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قانون کے اصولوں کی خطرناک حد تک بے توقیری کر رہے ہیں جو شہریوں اور فوجیوں دونوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ جنگ امریکی ٹیکس دہندگان کو روزانہ تقریباً 2 ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچا رہی ہے۔
یہ خط معروف قانونی ماہرین نے مشترکہ طور پر تحریر کیا جن میں ییل لا اسکول کی اونا ہیتھوے اور ہیرالڈ کوہ، نیویارک یونیورسٹی کے فلپ السٹن، اور ہیومن رائٹس واچ کے سابق سربراہ کینتھ روتھ شامل ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ چونکہ ان کا تعلق امریکہ سے ہے اس لیے ان کی بنیادی توجہ امریکی حکومت کے طرزِ عمل پر ہے لیکن وہ پورے خطے میں ممکنہ مظالم کے خطرے پر بھی تشویش رکھتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے خاص طور پر ان ممالک پر بھی جو خود کو عالمی رہنما کہتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ جنگ بین الاقوامی قانونی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
خط کے دستخط کنندگان نے واشنگٹن سے پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم امریکی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہر حال میں اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قانون اور انسانی حقوق کے قانون کی پاسداری کریں اور عالمی قوانین کے احترام کے لیے اپنے عزم کا واضح اظہار کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








