ایران کی مسلح افواج پاسدارانِ انقلاب نے ایک تازہ حملے میں امریکا کے 2 جنگی طیارے، پانچ ڈرونز اور دو کروز میزائل تباہ کردیئے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج کا دن امریکا کے لیے سیاہ دن ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے کہا گیا ہےکہ ایران کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام نے دو جنگی طیارے، پانچ ڈرونز اور دو کروز میزائل تباہ کر دیے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اطلاعات کے مطابق گرائے گئے طیاروں میں سے ایک کے عملے کا رکن بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایرانی فضائی حدود دشمن کے لیے انتہائی خطرناک بن چکی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک اے-10 طیارے کو بھی نشانہ بنایا۔
ایرانی فورسز کے مطابق دو امریکی جنگی طیارے گرائے گئے جن میں سے ایک ملک کے جنوب مغربی علاقے میں جبکہ دوسرا آبنائے ہرمز کے قریب تباہ ہوا۔ ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے جمعہ کو بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایک ایف-15 جنگی طیارے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جبکہ بعد ازاں ایک اے-10 طیارہ خلیج میں گر کر تباہ ہوا۔
These days, you see these scenes a lot.
You are not watching a repeated movie.
It’s the American fighter jets that are being shot down one by one.
It was a A-10 Jet this time. pic.twitter.com/OAnUaaXK1V— Iran Embassy SA (@IraninSA) April 3, 2026
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے نامعلوم حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اے-10 طیارے کے پائلٹ حادثے کے بعد محفوظ رہے تاہم ایف-15 کے عملے میں شامل کم از کم ایک پائلٹ کی حالت تاحال نامعلوم ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایک پائلٹ کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرا تاحال لاپتہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایف-15 طیارے کے گرائے جانے سے ایران کے ساتھ جاری ممکنہ مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ جنگ ہے اور ہم حالت جنگ میں ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ایف-15 طیارے کے ملبے اور پیراشوٹ سے منسلک ایک ایجیکشن سیٹ کی تصاویر بھی نشر کیں۔ طیارہ گرائے جانے کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے جنگ سے متعلق بیانات کا مذاق اڑایا۔
انہوں نے لکھاکہ ایران کو 37 بار شکست دینے کے دعووں کے بعد یہ جنگ رجیم چینج سے گھٹ کر اب اس سطح پر آ گئی ہے کہ کیا کوئی ہمارے پائلٹس کو ڈھونڈ سکتا ہے؟
ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مبینہ طور پر گرائے گئے طیاروں کے عملے کی تلاش میں مدد کریں۔ صوبہ کوہگلویہ و بوئیر احمد کے گورنر کے مطابق جو بھی عملے کو گرفتار کرے گا اسے خصوصی انعام دیا جائے گا۔
دوسری جانب کئی امریکی سیاستدانوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی فوج سے یکجہتی ظاہر کی ہے۔ سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شمر نے کہا کہ وہ پائلٹس کی محفوظ واپسی کے لیے دعاگو ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے جاری جنگ کے دوران امریکا تین ایف-15 طیارے فرینڈلی فائر کے واقعے میں کھو چکا ہے، جبکہ گزشتہ ماہ عراق کے اوپر ایک امریکی ریفیولنگ طیارہ بھی گر کر تباہ ہوا جس میں تمام چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔
ایران کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے فضائی حدود میں درجنوں امریکی ڈرونز مار گرائے ہیں تاہم امریکا ان دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے۔
دفاعی ماہر اور ریٹائرڈ امریکی فوجی افسر مائلز کیگنز نے اس واقعے کو امریکی فوج کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی دنوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچا تھا تاہم اب بھی پورٹیبل فضائی دفاعی نظام موجود ہیں جن کے ذریعے ایسے حملے ممکن ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








