مشرق وسطیٰ کشیدگی پر پاکستان کا کردار نمایاں، بھارتی وزیر خارجہ نے ایک اور بیان داغ دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارتی وزیر خارجہ
(فوٹو: بھارتی میڈیا)

مشرق وسطیٰ کشیدگی میں پاکستان کا نمایاں کردار سامنے آنے پر بھارت کی نریندر مودی حکومت منہ چھپاتی پھر رہی ہے، بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک اور بیان داغ دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایران جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہفتے کے روز وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ حالیہ سالوں میں دنیا بھر میں کئی بڑے عالمی دھچکے سہنے پڑے اور بھارت نے ایسے ہی چیلنجز کو برداشت کرنے کی اس صلاحیت کا کامیابی سے مظاہرہ بھی کیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایس جے شنکر نے کہا کہ بھارت نے اپنے چیلنجز کا داخلی و خارجی سطح پر استحکام کے ساتھ مقابلہ کیا۔ عالمی نظام تیزی سے تبدیلی کی جانب جارہا ہے اور دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ کچھ معاشروں کو یہ تبدیلیاں قبول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ آج کل تقریباً ہر چیز کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے اور اسے ہتھیار بنایا جارہا ہے۔ اب دنیا ایک غیر یقینی ماحول میں سلامتی کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ بھارتی معاشرے میں وہ امید پسندی ہے جو دنیا کے کئی دیگر حصوں میں نظر نہیں آتی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ 10سال کی کارکردگی کافی بہتر رہی، جس سے یہ اعتماد پیدا ہوا کہ اگلے 10سال اور بعد کے سال بھی اچھے ہوں گے۔ آج بھارت دنیا کی ٹاپ 5معیشتوں میں شامل ہے۔ کوئی اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ حالیہ کئی عالمی جھٹکوں نے بھارت کی آزمائش کی اور چیلنجز کا سامنا کرنے میں کافی کامیاب رہے۔

کامیاب، کیا واقعی؟

اگر ایران جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران کا جائزہ لیا جائے تو بھارت میں اس بحران سے نمٹنے کی صورتحال کافی خراب رہی ہے، خاص طو رپر جب بھارتی عوام کو ضرورت پڑی کہ ایران جنگ میں خیر سگالی کا تاثر دے کر عوام کے معاشی بوجھ کو کم کیا جائے تو بھارتی وزیرخارجہ اور وزیراعظم نریندر مودی کہیں نہیں تھے۔

دراصل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کرنے جا پہنچے تھے جہاں انہوں نے اسرائیل کو فادر لینڈ قرار دیا اور اس اسرائیل سے ہاتھ ملانے کی پاداش میں، جس نے ایران پر حملوں کیلئے اہم کردار ادا کیا، ایران اور امریکا نے مشرق وسطیٰ کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان پر تو اعتماد کیا، بھارت کا کسی نے نام تک نہیں لیا۔

یہی وہ اہم معاملہ ہے کہ جہاں بھارت ثالث بن کر ساری دنیا میں اپنا کردار نمایاں کرسکتا تھا، لیکن بھارت کی نریندر مودی حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ اپنی دشمنی نبھانے کیلئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش اور اس سے پیدا ہونے والے اس معاشی بحران کو بھی نظر انداز کردیا جو آج بے شمار بھارتی شہریوں کی زندگیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

Related Posts