پشاور میں واقع بھارت کے لیجنڈ اداکار راج کپور کی ایک صدی پرانی تاریخی حویلی کا ایک حصہ حالیہ بارشوں اور زلزلے کے باعث گر گیا ہے جس کے بعد اس عمارت کے باقی حصے کی حفاظت پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مسلسل بارشوں نے پہلے ہی حویلی کی ساخت کو کمزور کر دیا تھا جبکہ جمعہ کی رات آنے والے زلزلے نے خستہ حال ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں ایک دیوار کا کچھ حصہ منہدم ہو گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
خیبرپختونخوا ورثہ کونسل کے حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کی موجودہ حالت خطرناک ہو چکی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید نقصان کا خدشہ ہے۔ متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس تاریخی ورثے کی مرمت اور بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے۔
یہ حویلی پشاور کے قدیم علاقے قصہ خوانی بازار میں واقع ہے اور اسے خطے کی اہم ثقافتی یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے 2016 میں اسے قومی ورثہ قرار دیا تھا تاہم اس کے باوجود یہ عمارت طویل عرصے سے زبوں حالی کا شکار ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں راج کپور نے آنکھ کھولی تھی۔ ان کے والد دیوان بشیشورناتھ کپور نے اس حویلی کو 1918 سے 1922 کے درمیان تعمیر کروایا تھا۔ تاریخی اہمیت کی حامل اس عمارت میں تقریباً 40 کمرے موجود تھے اور اس کی بیرونی دیواروں پر خوبصورت نقش و نگار اور جھروکے بنائے گئے تھے جو اس دور کی شاندار طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔
تقسیمِ ہند سے قبل کپور خاندان کی کئی نسلیں اس حویلی میں رہائش پذیر رہیں تاہم 1947 کے بعد یہ عمارت ویران ہو گئی اور راج کپور ہندوستان منتقل ہو گئے بعد ازاں انکے بیٹے رشی کپور اور رندھیر کپور نے 1990 کی دہائی میں اس تاریخی مقام کا دورہ بھی کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








