ٹک ٹاکر سینوریٹا کے ساتھ زیادتی؟ فحش ویڈیوز لیک؟ کون تھے تین ملزم؟ جانیں اہم ترین حقائق

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

لاہور کے پوش علاقے ڈیفینس ہاؤسنگ سوسائٹی (ڈی ایچ اے) سے جڑے مبینہ اسکینڈل نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے جہاں وائرل ویڈیوز اور سنگین الزامات کے باعث متنازعہ ٹک ٹاکر سینوریٹا ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔

چند دنوں سے آن لائن فورمز، ٹویٹر، ایکس اور فیس بک پر دعوے کیے جا رہے تھے کہ سینوریٹا اور ان کی دوست کو دفتر میں بلا کر تین افراد نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران ویڈیوز بھی ریکارڈ کی گئیں۔

یہ خبریں اس وقت شدت اختیار کر گئیں جب سوشل میڈیا صارفین نے ایف آئی آر کے متن کو بھی شیئر کرنا شروع کر دیا جس میں مبینہ طور پر کہا گیا کہ ملزم نے اپنے کاروباری برانڈ کی پروموشن ویڈیوز کے لیے سینوریٹا اور ان کی دوست کو میٹنگ میں بلایا اور وہاں ان کے ساتھ غیر قانونی رویہ اختیار کیا گیا۔

May be an image of ticket stub and text

کچھ حلقوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اصل میں یہ زنا باالرضا کا معاملہ ہے جبکہ بعض نے کہا کہ یہ مقدمہ فحش ویڈیو لیک ہونے کے بعد اپنے آپ کو معصوم ظاہر کرنے کے لیے گھڑا گیا۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی بحث میں صارفین نے پولیس کے رویے پر بھی سوال اٹھایا کہ کیوں اکثر ایسے کیسز میں زنا بالجبر (376 PPC) کا چارج لگایا جاتا ہے حالانکہ رضاکارانہ تعلقات پر یہ دفعہ لاگو نہیں ہوتی۔

ان دونوں دعوؤں کے بعد تصویر کا تیسرا رخ سامنے آیا جب ٹک ٹاکر سینوریٹا نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو جھوٹی خبر قرار دے دیا۔ ٹک ٹاکر سینوریٹا نے اس پورے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ نہ تو میرے ساتھ، نہ ہی میری دوست کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایف آئی آر اور خبریں بالکل جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ میں یہ سب افواہیں مسترد کرتی ہوں اور عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ ایسے جھوٹے دعووں پر یقین نہ کریں۔

سینوریٹا نے ویڈیو میں واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ عوام میں بھی غلط فہمی پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کریں اور افواہوں کو آگے نہ بڑھائیں۔

سوشل میڈیا صارفین کی رائے بھی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک گروپ نے سینوریٹا کی تردید کو سراہا اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جھوٹی خبریں روکنے کے لیے سخت قوانین لاگو کیے جائیں جبکہ دوسرا گروپ مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔

ڈیجیٹل قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کسی شخص کی بدنامی یا جھوٹے الزامات کے پھیلانے پر تحریری یا زبانی بدنامی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ اگر سینوریٹا نے قانونی چارہ جوئی کی تو سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے لیے سنجیدہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مشہور شخصیات خاص طور پر سوشل میڈیا انفلوئنسرز، ہر لمحہ افواہوں اور جھوٹے الزامات کے خطرے میں رہتے ہیں۔ سینوریٹا کے کیس نے پاکستان میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پریس کی ذمہ داریوں کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے اور صارفین کو محتاط رہنے کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی ہے۔

Related Posts