ایران جنگ پر امریکا سے مذاکرات کیلئے ایران کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ گیا، وفد کے ہمراہ جنگ میں شہید ایرانی بچوں کے اسکول بیگ بھی پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
ہمسایہ ملک ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کی پاکستان آمد کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وفد کی قیادت اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے۔
Arrival of the delegation of the Islamic Republic of Iran for Islamabad Talks pic.twitter.com/aJYU9cx5t2
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 10, 2026
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وفد کا استقبال نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کیا، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی استقبال کے موقع پر موجود تھے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی استقبال کے موقعے پر موجود تھے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو امید ہے کہ ایران اور امریکا تعمیری انداز میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے، ہم تنازعے کے پائیدار اور دیرپا حل کیلئے سہولت کاری جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہیں۔
آج سے کم و بیش 40روز قبل شروع ہونے والی ایران جنگ کے آغاز سے ہی مشرق وسطیٰ میں جس کشیدگی کا آغاز ہوا، اس کے دوران اسرائیل و امریکا کے ایران پر حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں ایرانی شہید اور زخمی ہوئے۔ ایرانی وفد پاکستان آتے ہوئے شہید بچوں کے اسکول بیگ اپنے ساتھ لایا ہے جس میں میناب اسکول کے 160سے زائد شہید بچوں کے بیگ بھی شامل ہیں۔
🇮🇷 Children of Minab traveling with the Iranian delegation, led by Dr. Ghalibaf. pic.twitter.com/U6bEgedBX0
— DD Geopolitics (@DD_Geopolitics) April 10, 2026
میناب اسکول حملہ
یاد رہے کہ ایران جنگ کے آغاز پر 28 فروری کو جنوبی ایران کے شہر میناب میں شجرہ طیبہ گرلز پرائمری اسکول پر اس وقت میزائل حملہ ہوا جب بچوں کی بڑی تعداد ابھی اسکول میں موجود تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق 165 سے زائد افراد شہید ہوئے جن میں اکثریت اسکول کے بچوں کی تھی۔
ایرانی حکومت کے علاوہ یونیسکو، پاکستان سمیت دیگر برادر ممالک اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے حملے کی مذمت کی تاہم بچوں کی شہادت ایک ایسا سانحہ ہے جو پوری ایرانی قوم کو سوگوار کرگیا بلکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے عوام میں بھی اس حملے پر گہرا غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








