بالی ووڈ کی لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں اتوار کے روز ممبئی میں انتقال کر گئیں۔بھارتی میڈیا نے گلوکارہ کے انتقال کی تصدیق کردی۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بریچ کینڈی اسپتال کے ڈاکٹر پرتیت سامدانی نے معروف گلوکارہ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آشا بھوسلے نے آج اسی اسپتال میں آخری سانس لی اور ان کی موت متعدد اعضا کے ناکارہ ہونے کے باعث واقع ہوئی۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ آشا بھوسلے کے بیٹے آنند بھوسلے نے بھی خبر کی تصدیق کی۔ انہوں نے اسپتال کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ آشا بھوسلے کا انتقال آج ہوا ہے، جبکہ آخری دیدار کے خواہشمند افراد کل صبح 11 بجے ان کی رہائش گاہ پر آ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آشا بھوسلے کی آخری رسومات کل شام 4 بجے شیواجی پارک میں ادا کی جائیں گی۔
خیال رہے کہ آشا بھوسلے کو 11 اپریل کو شدید تھکن اور سینے کے انفیکشن کے باعث بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جس کی اطلاع ان کی پوتی زنائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دی تھی۔
واضح رہے کہ آشا بھوسلے کے انتقال کے ساتھ ہی 8 دہائیوں پر محیط ایک غیر معمولی موسیقی سفر کا اختتام ہو گیا۔ انہوں نے محض 10 سال کی عمر میں گانا شروع کیا اور 1943 کی مراٹھی فلم “ماجھا بال” کے لیے گیت “چلا چلا نو بالا” کے ذریعے گلوکاری کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔
بعد ازاں 5 سال بعد آشا بھوسلے نے فلم “چنریا” (1948) کا ایک گیت گا کر بالی ووڈ کی فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ انہیں بڑی کامیابی فلم “نیا دور” (1957) کے گیت “اڑیں جب جب زلفیں تیری” سے ملی، جس کے دیگر مختلف گیت بھی آشا بھوسلے نے ہی گائے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








