اصل کھیل کیا چل رہا ہے؟ تیل کی قیمتوں کے وہ حقائق جو کوئی نہیں بتا رہا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتیں تقریباً 98 ڈالر فی بیرل کے آس پاس مستحکم رہیں جو کہ حالیہ شدید اتار چڑھاؤ کے بعد نسبتاً ایک سکون کا مرحلہ ظاہر کرتی ہیں۔ ٹریڈرز اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی جیوپولیٹیکل صورتحال اور اس ماہ کے آغاز میں ہونے والی کشیدگی میں وقتی کمی کے اثرات کو ایک ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 97 سے 98 ڈالر فی بیرل کے درمیان ٹریڈ کرتا رہا جس میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 1.8 فیصد معمولی کمی دیکھی گئی۔ دوسری جانب عالمی معیار برینٹ کروڈ بھی ہلکی نرمی کے ساتھ تقریباً 98 سے 99 ڈالر فی بیرل کی سطح پر رہا۔

موجودہ قیمتیں گزشتہ ہفتے ہونے والی بڑی فروخت کے بعد ایک واضح بحالی کو ظاہر کرتی ہیں جب مارکیٹ میں اچانک بڑی گراوٹ دیکھی گئی تھی۔

8 اور 9 اپریل کو صورتحال اس وقت تیزی سے بدلی جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خبروں کے بعد ایک ہی سیشن میں قیمتیں 13 فیصد سے زیادہ گر گئیں۔ اس پیش رفت نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات کو وقتی طور پر کم کر دیا تھا جو دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی کا اہم راستہ ہے اور اس دوران ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 94.41 ڈالر تک بھی آ گئی تھی تاہم یہ وقتی ریلیف زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس خبر نے ابتدائی طور پر مارکیٹ میں سکون پیدا کیا اور اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی لیکن مستقل اور واضح امن معاہدے کی عدم موجودگی نے صورتحال کو دوبارہ غیر یقینی بنا دیا ہے۔

لندن کے ایک بڑے بینک سے وابستہ توانائی کے ماہر نے کہا کہ مارکیٹ اب بھی انتہائی حساس مرحلے میں ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ قیمتیں مارچ میں دیکھے گئے 120 ڈالر کے بلند ترین سطح سے نیچے آ چکی ہیں لیکن حقیقی اور قابلِ تصدیق امن فریم ورک کی کمی کے باعث ہر بیرل میں اب بھی خطرے کا پریمیم شامل ہے۔

مزید یہ کہ اپریل میں ہونے والی یہ اتار چڑھاؤ کی صورتحال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے پہلے ہی سے غیر مستحکم رجحان کا تسلسل ہے۔ مارچ میں برینٹ کروڈ کی قیمتیں ایران سے جڑے تنازع کے باعث 120 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی تھیں جس نے عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔

اس وقت کی صورتحال کے مقابلے میں قیمتیں اگرچہ کچھ حد تک کم ہوئی ہیں لیکن اب بھی پری بحران سطح سے کافی اوپر ہیں۔ مارکیٹ کے شرکاء اب اوپیک پلس کے آئندہ فیصلوں اور عالمی طلب کے نئے اشاروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر سے اوپر جائیں گی یا پھر بتدریج 90 ڈالر کی سطح کی طرف جائیں گی۔

Related Posts