قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ کے اہم منصوبے روشن سندھ پروگرام سے منسلک ایک بڑے مبینہ کرپشن اسکینڈل کا سراغ لگایا ہے جس کے بعد تحقیقات میں تیزی آ گئی ہے۔ حکام کو ایسی ٹھوس شواہد ملے ہیں جن میں درآمدات کے جعلی ریکارڈ کے ذریعے بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت جو اشیاء مقامی سطح پر حاصل کی گئی تھیں انہیں 17 جعلی کسٹمز دستاویزات کے ذریعے درآمد شدہ سامان ظاہر کیا گیا۔ اس مبینہ جعلسازی کے بعد رقوم کو بیرونِ ملک منتقل کیا گیا جسے بظاہر قانونی غیر ملکی ادائیگیوں کا لبادہ دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق چار افراد محبوب قاضی، مدثر قاضی، جعفر خواجہ اور عون خواجہ کو باضابطہ طور پر طلب کر لیا گیا ہے۔ ان میں سے دو افراد کو 15 اپریل کو نیب کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے جہاں ان پر جعلی بلنگ اور مقامی سامان کو درآمدی ظاہر کرنے جیسے الزامات کا سامنا ہوگا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ نیب کی اس تیز ہوتی ہوئی کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ ان افراد کے خلاف بڑی پیش رفت کر رہا ہے جن پر قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے مختص عوامی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کا الزام ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








