ہمارا ایٹمی پروگرام برائے فروخت نہیں! ایران نے ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹا قرار دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا کہ تہران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ ایرانی حکام نے اس جوہری مواد کو اپنی قومی حکمتِ عملی کی سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے اتنا ہی مقدس ہے جتنا خود ایران کی سرزمین ہے۔

یہ سفارتی کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں تناؤ بڑھا ہوا ہے اور اہم نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں۔ تہران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ وسیع تر جوہری امن معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہو سکتا ہے تاہم اپنے افزودہ مواد کو کسی اور ملک منتقل کرنا اس کے لیے قابلِ قبول نہیں۔

ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے قطری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی موقف کو رد کر دیا اور کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا جس کے تحت ایران اپنا مواد منتقل کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران افزودگی کو صفر کرنے یا اپنے پرامن جوہری پروگرام کو روکنے سے متعلق کسی بھی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ ان کے مطابق اسلامی جمہوریہ نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا کہ وہ افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیجے گا جو واشنگٹن کے دعوؤں کے برعکس ہے۔

وزارتِ خارجہ نے بھی اسی مؤقف کی تائید کی۔ ترجمان اسماعیل بغائی ایک انٹرویو کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور قومی غیرت سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افزودہ یورینیم ایران کے لیے اس کی سرزمین جتنا ہی مقدس ہے اور کسی بھی حالت میں اسے کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ بعد ازاں سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کو یہ مواد دینے کی بات کبھی بھی جاری سفارتی عمل کا حصہ نہیں رہی۔

ایرانی بیانات اس وقت سامنے آئے جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل میڈیا پر کئی اشتعال انگیز پوسٹس کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے جوہری گرد و غبار کو حاصل کر لے گا جس سے ان کی مراد افزودہ مواد تھا اور یہ کام بھاری مشینری کے ذریعے کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ یہ مواد بغیر کسی مالی لین دین کے حاصل کرے گا۔ ان کے بیانات سے یہ تاثر ملا کہ جوہری معاملہ آبنائے ہرمز کے ممکنہ کھلنے سے بھی جڑا ہوا ہے جہاں امریکی بحریہ کی جزوی ناکہ بندی جاری رہی ہے۔ انہوں نے یہاں تک عندیہ دیا کہ جلد پیش رفت ہو سکتی ہے اور شاید اسلام آباد میں کسی معاہدے پر دستخط بھی ہو جائیں مگر ایران کے تازہ موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان ابھی نمایاں اختلافات موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اصل تنازع ایران کے زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کم از کم 20 سال کے لیے افزودگی روک دے اور اپنا تمام ذخیرہ ختم کرے جبکہ ایران نے 3 سے 5 سال کی محدود پابندی اور مواد کو ملک سے باہر بھیجنے کے بجائے اس کی شدت کم کرنے کی تجویز دی ہے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے 2026 کے آغاز میں بتایا تھا کہ 2025 کے آخر میں ہونے والے فوجی حملوں سے ایران کی کچھ جوہری تنصیبات متاثر ہوئیں جس کے باعث 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخیرے جو پہلے 400 کلوگرام سے زیادہ بتایا جاتا تھا کی موجودہ صورتحال واضح نہیں رہی۔

خطے کے ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں ایران کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی یا پابندیوں میں نرمی جیسے امکانات زیرِ غور ہو سکتے ہیں مگر اپنے جوہری اثاثوں سے دستبردار ہونا موجودہ قیادت کے لیے سیاسی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

Related Posts