عالمی سیاست میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو لمحوں میں صورتحال بدل دیتے ہیں اور اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک غیر متوقع قدم اٹھاتے ہوئے روسی تیل سے متعلق پابندیوں میں اچانک نرمی دے دی حالانکہ چند دن پہلے تک اس کی واضح تردید کی جا رہی تھی۔ اس فیصلے نے نہ صرف عالمی توانائی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے جہاں ہر فریق اپنے مفادات اور خدشات کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔
یہ اجازت نامہ دراصل اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے ذریعے انتظامیہ عالمی توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران تیزی سے بڑھ گئی تھیں۔ یہ نیا لائسنس 30 دن کی اُس سابقہ رعایت کی جگہ لے رہا ہے جو 11 اپریل کو ختم ہو گئی تھی تاہم اس میں ایران، کیوبا اور شمالی کوریا سے متعلق لین دین شامل نہیں ہے۔
دو روز قبل بدھ کو امریکی وزیر خزانہ Scott Bessent نے واضح کیا تھا کہ واشنگٹن روسی اور ایرانی تیل سے متعلق چھوٹ میں توسیع نہیں کرے گا جبکہ ایرانی تیل کے لیے دی گئی رعایت اتوار کو ختم ہونے والی تھی۔
ایران کے حوالے سے جاری کی گئی رعایت جو 20 مارچ کو دی گئی تھی کے نتیجے میں تقریباً 14 کروڑ بیرل تیل عالمی منڈی تک پہنچا جس سے جنگ کے دوران توانائی کی فراہمی پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی جیسا کہ بیسنٹ نے گزشتہ ماہ بتایا تھا۔
امریکہ میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قانون سازوں نے ان رعایتوں پر سخت تنقید کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس سے جنگ کے دوران ایران اور روس کی معیشتوں کو سہارا مل سکتا ہے، جبکہ روس یوکرین کے ساتھ برسرپیکار ہے۔
مشاورتی ادارے Obsidian Risk Advisors سے وابستہ پابندیوں کے ماہر Brett Erickson کے مطابق یہ توسیع آخری نہیں ہوگی اور امکان ہے کہ واشنگٹن آئندہ بھی ایسی مزید رعایتیں جاری کرے گا۔ ان کے بقول عالمی توانائی منڈی کو اس تنازع نے طویل مدتی نقصان پہنچایا ہے اور اسے مستحکم کرنے کے ذرائع تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
روس کے صدارتی نمائندے Kirill Dmitriev نے پہلے کہا تھا کہ ابتدائی رعایت کے نتیجے میں تقریباً 10 کروڑ بیرل روسی خام تیل عالمی منڈی میں آسکے گا جو دنیا کی ایک دن کی پیداوار کے برابر ہے۔
اگرچہ ان پابندیوں میں نرمی سے وقتی طور پر تیل کی عالمی سپلائی میں اضافہ ہو سکتا ہے تاہم اس کے باوجود قیمتوں میں اضافہ جاری ہے جس کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی جزوی بندش ہے جہاں سے جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔
یہ رعایتیں مغربی ممالک کی اس کوشش کو بھی متاثر کر سکتی ہیں جس کا مقصد روس کو یوکرین میں جنگ کے لیے مالی وسائل سے محروم کرنا ہے اور اس معاملے پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر یورپی کمیشن کی صدر Ursula von der Leyen نے واضح کیا ہے کہ روس پر پابندیاں نرم کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








