گاڑیاں سستی ہونے کی راہ ہموار، جانئے نئی آٹو پالیسی میں ایسا کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کار قطار
کار قطار، علامتی فوٹو

حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں اپنے ویٹڈ ایوریج ٹیرف کو 10.6 فیصد سے کم کر کے 9.5 فیصد تک لانے جا رہی ہے، جو بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے تحت وسیع اصلاحاتی پیکج کا حصہ ہے۔

7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تحت کیے گئے وعدوں کے مطابق حکام نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ درآمدات پر کوئی نیا ریگولیٹری ڈیوٹی (RD) عائد نہیں کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ نئی آٹو پالیسی، جس کے یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے کا امکان ہے، نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت ٹیرف کو مزید کم کر کے مالی سال 2030 تک 7.4 فیصد تک لانے کا روڈ میپ فراہم کرے گی۔ آٹو سیکٹر کے لیے خاص طور پر ویٹڈ ایوریج ٹیرف کو تقریباً 5.99 فیصد تک کم کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ پالیسی مقامی صنعت کے فروغ، پرزہ جات کی لوکلائزیشن میں اضافے اور گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے لیے بھی اقدامات تجویز کرتی ہے۔

آئندہ پانچ برسوں میں مکمل طور پر تیار شدہ گاڑیوں (CBUs) پر کسٹمز ڈیوٹی کو 15 فیصد تک محدود رکھنے کا منصوبہ ہے، جبکہ موجودہ پیچیدہ نظام کی جگہ 0 فیصد، 5 فیصد، 10 فیصد اور 15 فیصد پر مشتمل چار درجوں کا سادہ ٹیرف ڈھانچہ متعارف کرایا جائے گا۔

مزید برآں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد موجودہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کو بتدریج ختم کر کے صفر تک لانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

Related Posts