راجر واٹرز، میسیو اٹیک اور برائن اینو سمیت ایک ہزار سے زائد موسیقاروں اور یوروویژن کے 70 سابق شرکاء نے 2026 کے یوروویژن سونگ کانٹیسٹ کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا ہے اور یورپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ میں اپنی کارروائیوں کو درست ثابت کرنے کا موقع دے رہی ہے۔
“نو میوزک فار جینوسائیڈ” کے نام سے معروف اس اتحاد کا کہنا ہے کہ روس کو نکالنے کے باوجود اسرائیل کو شامل رکھنا منافقت ہے۔
اس مہم نے اس سے قبل فنکاروں کو قائل کیا تھا کہ وہ اسرائیل میں اپنے میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارمز سے ہٹا لیں۔
اس اقدام کی حمایت کرنے والوں میں عالمی شہرت یافتہ نام جیسے برائن اینو، میسیو اٹیک، کنی کیپ اور راجر واٹرز شامل ہیں، جبکہ یوروویژن کے سابق فاتحین ایمیلی ڈی فاریسٹ اور چارلی میک گیٹیگن بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
اپنے خط میں دستخط کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ روس کو 2022 میں یوکرین جنگ کے باعث معطل رکھا گیا ہے جبکہ اسرائیل کو شرکت کی اجازت دینا EBU کے رویے میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
خط میں کہا گیا: “روس اور اسرائیل کے حوالے سے EBU کے مختلف ردعمل نے اس کی غیر جانبداری کے دعووں کو کمزور کر دیا ہے۔ 2022 میں تنظیم نے کہا تھا کہ روس کی شمولیت مقابلے کو بدنام کر دے گی۔”
مزید کہا گیا: “تاہم غزہ میں 30 ماہ سے زائد جاری تشدد اور مغربی کنارے میں اقدامات کے باوجود اسرائیل کے خلاف ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔”
اس سے قبل اسپین، آئرلینڈ، آئس لینڈ، سلووینیا اور نیدرلینڈز کے نشریاتی ادارے بھی بطور احتجاج شرکت سے دستبردار ہو چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








