پنجاب حکومت نے ایک بڑا اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے 8 محکموں اور ان کے ذیلی اداروں میں 43 ہزار 332 سے زائد خالی اسامیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
محکمہ خزانہ نے اس حوالے سے تمام متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے بجٹ اور اخراجات میں فوری طور پر یہ تبدیلیاں نافذ کریں تاکہ آئندہ بجٹ میں ان ختم شدہ اسامیوں کے لیے کوئی فنڈ مختص نہ کیا جائے۔
محکمہ خزانہ کے احکامات کے مطابق یہ تمام اسامیاں گریڈ 1 سے 16 تک کی تھیں، جو یکم جولائی 2024 سے خالی پڑی تھیں۔ اس فیصلے کا اطلاق مختلف اہم محکموں پر کیا گیا ہے، جن میں سب سے زیادہ متاثر سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ہوا ہے، جہاں 30 ہزار سے زائد اسامیاں ختم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ زراعت اور اس کے ذیلی شعبوں میں 11 ہزار 399، محکمہ ہاؤسنگ میں 727، محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال میں 561، محکمہ سپیشل ایجوکیشن میں 266 اور محکمہ پبلک پراسیکیوشن کے مختلف ونگز میں 222 اسامیوں کو ختم کیا گیا ہے۔
روزنامہ دنیا کے مطابق سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ 1 سے 16 تک کی 30 ہزار 391 خالی اسامیوں کے خاتمے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق لاہور سمیت پنجاب بھر کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز پر ہوگا۔ اسی طرح محکمہ زراعت میں گریڈ 1 سے 15 تک کی 11 ہزار 399 اسامیاں ختم کی گئی ہیں، جن میں بیلدار، چوکیدار، خاکروب، مالی اور لیبر جیسے نچلے درجے کے عملے کے ساتھ ساتھ جونیئر کلرک، فیلڈ اسسٹنٹ، ڈرائیور اور دیگر تکنیکی و انتظامی عہدے بھی شامل ہیں۔
محکمہ ہاؤسنگ میں 727 خالی مستقل اسامیوں کا خاتمہ کیا گیا ہے، جس کا اطلاق صوبے بھر کی مختلف ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اور ذیلی اداروں پر ہوگا۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع اور اداروں میں اسسٹنٹ، آڈیٹر، سب انجینئر، کلرک، سروئیر اور دیگر کیڈرز کی اسامیاں بھی ختم کی گئی ہیں۔ مزید برآں محکمہ پبلک پراسیکیوشن کے 5 ونگز میں 222، محکمہ زکوٰۃ و عشر میں 92 اور محکمہ لیبر میں 65 خالی اسامیوں کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی لانا اور موجودہ عملے سے زیادہ مؤثر کارکردگی حاصل کرنا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں اس فیصلے سے حکومتی اخراجات میں کمی آئے گی، وہیں نئی بھرتیوں کے مواقع محدود ہونے کے باعث روزگار کے امکانات پر منفی اثر بھی پڑ سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








