پاکستان میں رواں سال کانگو وائرس سے پہلی ہلاکت سامنے آ گئی جہاں جمعرات کے روز کراچی کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج 17 سالہ لڑکا دم توڑ گیا۔ مریض کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
کانگو وائرس ایک خطرناک بیماری ہے جو عموماً چیچڑوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ یہ وائرس شدید نوعیت کے ہیمرجک بخار کا باعث بنتا ہے اور خاص طور پر ہائیلوما نسل کے متاثرہ چیچڑ کے کاٹنے یا متاثرہ جانوروں کے خون اور بافتوں سے رابطے کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔
سندھ انفیکشنز ڈیزیزز اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الوحید راجپوت نے بتایا کہ مریض جب اسپتال لایا گیا تو وہ پہلے ہی انتہائی نازک حالت میں تھا اور اسے اندرونی خون بہنے کی شکایت تھی۔
انہوں نے بتایا کہ مریض کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت یونٹ میں منتقل کیا گیا اور سخت تنہائی (آئسولیشن) میں علاج فراہم کیا گیا، تاہم تمام کوششوں کے باوجود اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔
جناح اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وقاص کے مطابق یہ نوجوان مویشی فارم پر کام کرتا تھا اور اسے پیر کے روز تیز بخار کی حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کو کانگو بخار کا شبہ ہونے پر اسے فوراً آئسولیشن میں منتقل کر دیا گیا اور خون کے نمونے آغا خان یونیورسٹی اسپتال بھیجے گئے جہاں بیماری کی تصدیق ہوئی۔
بعد ازاں مریض کو خصوصی علاج کے لیے منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔ سندھ میں اس سے قبل کانگو وائرس سے آخری ہلاکت جون 2025 میں رپورٹ ہوئی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








