بلوچستان کے ضلع چاغی میں تانبہ اور سونے کے ایک منصوبے کی سائٹ پر دہشتگردانہ حملے میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کے 9 ملازمین جاں بحق ہوگئے جس میں غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ مقامی حکام کے مطابق افسوسناک واقعہ اچانک پیش آیا جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
یہ منصوبہ نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کے زیرِ انتظام ہے جو پاکستان کی ایک کان کنی کمپنی ہے اور اس خطے میں معدنی وسائل کی تلاش میں مصروف ہے۔ علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی شناخت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
دالبندین: دریگون میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (این آر ایل) مائننگ کمپنی کے سائٹ پر مسلح افراد کا حملہ، کمپنی کے سیکورٹی اہلکاروں سمیت دس ملازم ہلاک جبکہ تین ملازم زخمی، ہلاک افراد میں غیر ملکی بھی شامل
حملہ آور کمپنی کے غیر ملکی آفیسر کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے – عینی شاہدین pic.twitter.com/vOua3KFvdV
— The Balochistan Post (@BalochistanPost) April 23, 2026
کمپنی نے ایک باضابطہ بیان میں حملے کی تصدیق تو کی تاہم جانی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور مزید معلومات دینے سے گریز کیا۔
نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز جن میں فرنٹیئر کور بھی شامل ہے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔
دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے حکام نے ڈان سے گفتگو میں بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم نو افراد جان سے گئے جن میں دو سیکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔ پولیس نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ لاشوں کو دالبندین کے پرنس فہد اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کمپنی نے ایک بار پھر بلوچستان میں مقامی آبادی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور بتایا کہ دریگوان سائٹ پر کام کرنے والے اس کے 90 فیصد سے زائد ملازمین مقامی افراد پر مشتمل ہیں۔
مزید یہ کہ کمپنی نے کہا کہ وہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اپنے ملازمین اور آپریشنز کی حفاظت کو یقینی بنانا اس کی اولین ترجیح ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








