سافٹ بینک گروپ کارپوریشن تقریباً 10 ارب ڈالر کے ایک مارجن قرض کے حصول کیلئے مذاکرات کر رہی ہے جس کے لیے وہ اوپن اے آئی میں اپنی حصص داری کو بطور ضمانت استعمال کرے گی۔
بلومبرگ اور رائٹرز کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس پیش رفت کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کمپنی کی تیز رفتار اور جارحانہ سرمایہ کاری کو مزید تقویت دینا ہے۔
مجوزہ قرض کی مدت دو سال رکھی گئی ہے جس میں ایک سال کی ممکنہ توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے۔ اس پر ابتدائی شرحِ سود تقریباً 425 بیسس پوائنٹس فنانسنگ ریٹ سے زائد ہوگی جو مجموعی طور پر لگ بھگ 7.88 فیصد بنتی ہے تاہم یہ مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور حتمی شرائط میں رد و بدل ممکن ہے۔
کمپنی اپنے اوپن اے آئی کے حصص فروخت کیے بغیر ہی انہیں بطور ضمانت استعمال کرتے ہوئے سرمایہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس سے قبل مارچ 2026 میں سافٹ بینک نے اوپن اے آئی اور دیگر کارپوریٹ ضروریات کے لیے 40 ارب ڈالر کا ایک عبوری قرض بھی حاصل کیا تھا۔
رواں سال کے دوران سافٹ بینک کے شیئرز میں اب تک 31.5 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جو جاپان کے ٹوپکس انڈیکس کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر کارکردگی ظاہر کرتا ہے۔ اس تیزی کی بڑی وجہ اوپن اے آئی میں کمپنی کی سرمایہ کاری پر مارکیٹ کا بڑھتا ہوا اعتماد اور اس ادارے کی غیر معمولی رفتار سے ترقی ہے۔قرض فراہم کرنے والے ادارے اور سرمایہ کار اس قسم کی ضمانتی فنانسنگ کو مصنوعی ذہانت کے فروغ پاتے ہوئے شعبے میں ایک اہم اسٹریٹجک قدم قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اس معاملے پر سافٹ بینک اور اوپن اے آئی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ پیش رفت سافٹ بینک کے بانی ماسایوشی سون کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ اوپن اے آئی میں 22.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر چکے ہیں جبکہ 2025 میں آرم کے حصص کے عوض 5 ارب ڈالر کا مارجن قرض بھی حاصل کیا گیا تھا۔ یہ خبر سب سے پہلے 22 اور 23 اپریل کو بلومبرگ نے رپورٹ کی جسے بعد ازاں رائٹرز اور سیکنگ الفا نے بھی شائع کیا اور اس میں سافٹ بینک کی قرض کے ذریعے توسیع کی حکمت عملی کو اجاگر کیا گیا ہے باوجود اس کے کہ ماضی میں اس کی سرمایہ کاری میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








