اسلام آباد: ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ رات کے وقت بجلی کا استعمال کم کرنے اور بچت کے اصول اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایل این اجی کی دستیابی سے پیک ٹائم لوڈ مینجمنٹ ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی دستیابی سے پیک ٹائم لوڈ مینجمنٹ بھی ختم ہوجائے گی۔گزشتہ شب صوبوں کی ڈیمانڈ کی بدولت پیک ٹائم میں ڈیموں سے پانی کے اخراج سے 4950 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی۔
میڈیا کو جاری بیان میں ترجمان نے بتایا کہ پن بجلی کی کل استعداد 11500میگاواٹ ہے اور پن بجلی اب بھی اپنی استعداد سے تقریباً 6000 میگاواٹ کم پیدا ہوئی ہے، صوبوں سے پانی کی کم طلب پن بجلی سے کم بجلی پیداوارکی بنیادی وجہ ہے۔
بیان میں ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ ملک کےجنوب سے سینٹر میں 400میگاواٹ گرڈ میں استحکام کی بدولت ترسیل جاری رہی، بجلی تقسیم کار کمپنیوں نےکل رات پیک ٹائم میں ڈیمانڈ میں اضافےکی بدولت2 گھنٹےسے ڈھائی گھنٹے تک کی لوڈ مینجمنٹ کی ہے،
ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ ملک کےزیادہ نقصانات والے فیڈرز پر پالیسی کےمطابق اکنامک لوڈ منیجمنٹ جاری رکھی جائے گی، اکنامک لوڈ منیجنٹ کا پیک ٹائم لوڈ منیجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ ایل این جی عدم دستیابی کی بدولت 5 ہزار 500 میگا واٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ رات کے وقت بجلی کےاستعمال میں بچت کے اصولوں کو اپنایا جائے، جس کا مقصد بڑھتی ڈیمانڈ کو بہترطریقے سے مینیج کرنا ہے، بین الاقوانی حالات اور پانی کی کم طلب کی بدولت رات میں شارٹ فال کا سامنا رہتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








