ایٹمی طاقت کی حامل ریاست یا بے بس ملک؟ نون لیگی وزیر نے پیٹرول مہنگا کرنے کی وجہ بتادی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس کی بڑی وجہ خطے میں کشیدگی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ معاہدوں کے باعث حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ اس اضافے کا بوجھ منتقل کرے اسی لیے آئندہ ہفتے کے لیے ڈیزل اور پیٹرول دونوں کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے اضافہ کیا جا رہا ہے۔

وزیر کے مطابق حکومت نے حتیٰ الامکان عالمی سطح پر بڑھتی قیمتوں کا بوجھ خود برداشت کرنے کی کوشش کی جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مل کر عوام کو ایک بڑا ریلیف پیکج بھی فراہم کیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جلد امن قائم ہوگا جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لا کر عوام کو ریلیف دیا جا سکے گا۔

موجودہ عالمی سیاسی و معاشی منظرنامے میں پیٹرولیم وزیر کا کردار قیادت سے زیادہ بحران سے نمٹنے تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ علی پرویز ملک کا حالیہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستی پالیسی اب مکمل طور پر خودمختار نہیں رہی بلکہ اسے عالمی مالیاتی دباؤ اور منڈی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ترتیب دینا پڑتا ہے۔

روایتی طور پر حکومت عوام اور عالمی منڈی کے درمیان ایک حفاظتی دیوار کا کردار ادا کرتی ہے تاکہ بیرونی جھٹکوں کے اثرات کم کیے جا سکیں لیکن جب معیشت بین الاقوامی معاہدوں کی پابند ہو جائے تو حکومت کا کردار بدل جاتا ہے۔

ایسی صورتحال میں حکومت دباؤ کو خود برداشت کرنے کے بجائے اسے عوام تک منتقل کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں معاشی ضرورت اور سیاسی بقا ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہیں۔ وزیر کے بیان میں جن مجبوریوں کا ذکر کیا گیا وہ دراصل مالیاتی نظم و ضبط کی سخت شرائط ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی شراکت دار اکثر مالیاتی اداروں کی شکل میں سامنے آتے ہیں جہاں بجٹ خسارہ کم رکھنا اولین ترجیح بن جاتا ہے چاہے اس کے لیے عوامی سبسڈی کم کیوں نہ کرنی پڑے۔

جب حکومت یہ تسلیم کرتی ہے کہ اسے قیمتوں کا بوجھ منتقل کرنا پڑ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج جیسے ڈیفالٹ یا معاشی تنہائی، داخلی مہنگائی سے زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔

ان معاہدوں کا حوالہ دے کر ریاست دراصل ذمہ داری کو عالمی نظام پر منتقل کرتی ہے یوں قیمتوں میں اضافہ کسی پالیسی کے بجائے ایک مجبوری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ایک خودمختار ریاست کا خود کو بے بس ظاہر کرنا ایک عجیب تضاد ہے۔ جب قیمتوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے تو یہ صرف مالی معاملہ نہیں رہتا بلکہ خطرات کی منتقلی بھی ہوتی ہے جہاں ریاست اپنی معاشی پوزیشن مستحکم کرتی ہے لیکن عوام کو مہنگائی، سفری اخراجات اور قوتِ خرید میں کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ بیان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حکومت کی خودمختاری محدود ہو چکی ہے اور وہ اپنی معاشی سمت پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتی۔ عالمی قرض دہندگان اور مقامی عوام کے درمیان کشمکش میں قومی معیشت ایک رسی کی مانند ہے جس پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے یہ بین الاقوامی معاہدے ایک طرف سہارا ہیں تو دوسری طرف پابندی بھی۔ مستقبل کا اصل چیلنج صرف قیمتوں میں اگلے اضافے کو سنبھالنا نہیں بلکہ ایسی پوزیشن حاصل کرنا ہے جہاں ریاست دوبارہ عوام کے لیے تحفظ فراہم کر سکے نہ کہ ان پر بوجھ منتقل کرنے کا ذریعہ بنے۔

Related Posts