بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر کریم نگر میں ویمنز کالج کے قریب شدید دھوپ اور جھلسا دینے والی گرمی کے دوران ایک ایسا دل کو چھو لینے والا منظر سامنے آیا جس نے وہاں موجود لوگوں کو نہ صرف روک لیا بلکہ جذباتی بھی کر دیا۔
کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک کمسن طالب علم سڑک کنارے سے گزر رہا تھا۔ اس نے اچانک ایک بکری کو بےچینی کے عالم میں ادھر اُدھر بھٹکتے ہوئے دیکھا۔ گرمی کی شدت اور جانور کی حالت کو دیکھ کر وہ فوراً رک گیا جیسے کسی اندرونی احساس نے اسے آگے بڑھنے سے روک لیا ہو۔
اس معصوم بچے کے ذہن میں فوراً یہ خیال آیا کہ شاید یہ بکری سخت پیاس کی حالت میں ہے اور اسے پانی کی ضرورت ہے۔ بغیر کسی تاخیر کے وہ قریبی جگہ سے ایک گلاس پانی لے آیا اور نہایت نرمی، محبت اور ہمدردی کے ساتھ بکری کو پلانے لگا۔ اس چھوٹے سے عمل نے ایک بڑی انسانی مثال قائم کر دی جو دیکھنے والوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑ گئی۔
یہ پورا منظر وہاں موجود ایک شخص نے اپنے موبائل فون کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ چند ہی لمحوں میں یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آگئی اور تیزی سے وائرل ہو گئی۔ دنیا بھر سے لوگوں نے اس بچے کے جذبہ ہمدردی کو سراہا اور اس کی معصومیت و انسان دوستی کو خوب داد دی جا رہی ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے مناظر یاد دلاتے ہیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے اور چھوٹی چھوٹی نیکیاں بھی بڑے اثرات چھوڑ سکتی ہیں۔ بچے کے اس عمل نے یہ ثابت کیا کہ ہمدردی کسی عمر کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ یہ دل کے جذبے سے جنم لیتی ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک جذباتی لمحہ نہیں بلکہ ایک اہم سبق بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچوں کے لیے صرف مادی سہولتیں کافی نہیں ہوتیں بلکہ ان کی اخلاقی تربیت زیادہ ضروری ہے۔ والدین اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی ایسی پرورش کریں جو انہیں دوسروں کے درد کو سمجھنے والا، حساس اور ذمہ دار انسان بنائے۔
آخرکار یہی تربیت ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے جہاں انسان صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ہر جاندار کے لیے احساس اور ہمدردی رکھتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








