بین الاقوامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نمائندے ہفتے کے روز پاکستان کیلئے اڑان بھرنے کو تیار ہیں، جس کا مقصد تہران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کو بچانے کی ایک نئی کوشش ہے، تاہم ایران نے امریکی نمائندوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو مسترد کر دیا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق غیر ملکی میڈیا وائرل نیوز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ معاہدے تک پہنچنے کی تازہ کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب غیر معینہ مدت کی جنگ بندی نے ایران اور امریکا و اسرائیل کے مابین زیادہ تر لڑائی روک دی ہے، لیکن معاشی اثرات میں اضافہ جاری ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل تاحال متأثر ہے۔
رپورٹ میں غیرملکی میڈیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ امریکی اور ایرانی حکام کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے، اس کے بعد جب ٹرمپ نے اس ہفتے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ توسیع کا اعلان کیا تھا، جو پاکستان کی اس درخواست کے بعد کیا گیا کہ سفارتی رابطوں کے لیے مزید وقت دیا جائے۔
وائٹ ہاؤس نے جمعہ کے روز کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے لیے بھیجیں گے۔ تاہم عراقچی کی اسلام آباد آمد کے فوراً بعد ان کی وزارت نے کہا کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات بالواسطہ ہوں گے اور دونوں فریقین کے درمیان پیغامات پاکستانی حکام کے ذریعے منتقل کیے جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ صدر نے وٹکوف اور کشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ وہ ایرانی مؤقف کو براہِ راست سن سکیں۔گزشتہ چند دنوں میں ہمیں ایران کی جانب سے کچھ پیش رفت نظر آئی ہے۔” تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ امریکی حکام کو کیا معلومات مل رہی ہیں۔
ٹرمپ کا ایک اور اہم فیصلہ
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جونز ایکٹ وائیور میں 90 دن کی توسیع جاری کی ہے، جس سے غیر امریکی جہازوں کے لیے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل مزید آسان ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے مارچ میں 60 روزہ وائیور کا اعلان کیا تھا تاکہ توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کیا جا سکے اور امریکہ کو تیل و گیس کی ترسیل میں آسانی ہوسکے، یہ اقدام آبنائے ہرمز پر جاری کشیدگی اور جزوی بندش کے دوران اٹھایا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








