امریکا کا ایران کے کرپٹو نیٹ ورک پر بڑا حملہ! 344 ملین ڈالر منجمد؛ تہلکہ خیز انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی 344 ملین ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کر دی جس کے بعد تہران پر مالی دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ سے متعلق سفارتی کوششیں پہلے ہی نازک مرحلے میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب کمپنی ٹیتر نے انکشاف کیا کہ اس نے امریکی حکومت کے ساتھ مل کر دو مختلف کرپٹو ایڈریسز میں موجود 344 ملین ڈالر مالیت کے یو ایس ڈی ٹی (USDT) کو منجمد کرنے میں مدد کی۔

یہ کارروائی امریکی اداروں کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں سے جڑے شواہد شیئر کیے جانے کے بعد کی گئی۔ ٹیتر کا کہنا ہے کہ یہ اقدام او ایف اے سی (OFAC) اور امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے میں رہ کر کیا گیا تاکہ فنڈز کی مزید منتقلی روکی جا سکے۔

ایک امریکی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ حکومت کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ان کرپٹو اثاثوں کو ایران سے جوڑتے ہیں جن میں ایرانی ایکسچینجز کے ساتھ ٹرانزیکشنز اور ایسے درمیانی والٹس شامل ہیں جو مبینہ طور پر ایران کے مرکزی بینک سے منسلک اکاؤنٹس کے ساتھ تعامل رکھتے تھےتاہم سی این این نے خود اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی کہ یہ ٹیتر اکاؤنٹس واقعی ایران سے منسلک تھے یا نہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نےکہا کہ وزارت خزانہ نے ایران سے جڑے متعدد کرپٹو والٹس پر پابندیاں عائد کی ہیں اور امریکہ آئندہ بھی ایسے مالی ذرائع کو نشانہ بناتا رہے گا جو مبینہ طور پر اس نظام کو سہارا دیتے ہیں۔

یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اب پابندیوں کے نفاذ کے لیے اسٹیبل کوائنز کو ایک اہم ہتھیار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ٹیتر پہلے بھی یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی درخواست پر ٹوکنز کو منجمد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق فروری میں بھی کمپنی نے مجرمانہ سرگرمیوں سے منسلک تقریباً 4.2 ارب ڈالر کے یو ایس ڈی ٹی کو روک دیا تھا۔امریکی حکام اور بلاک چین تجزیہ کار اداروں نے ایران کی کرپٹو سرگرمیوں پر پہلے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

تحقیقات میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا ایرانی حکام اور پابندیوں کی زد میں آنے والے ادارے کرپٹو پلیٹ فارمز کو پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کر رہے تھے یا نہیں۔ ٹر ایم لیبز اور چین اینالسس جیسے اداروں کے اندازوں کے مطابق 2025 میں ایران سے جڑی کرپٹو ٹرانزیکشنز اربوں ڈالر تک پہنچ چکی تھیں۔

یہ معاملہ اس وقت بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے جب اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنیوں پر غیر قانونی مالی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ٹیتر کے مطابق وہ اب تک دنیا بھر میں 65 ممالک کی 340 ایجنسیوں کے ساتھ 2300 سے زائد کیسز میں تعاون کر چکی ہے جبکہ ریگولیٹری ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ اسٹیبل کوائنز اب بھی پابندیوں سے بچنے اور منی لانڈرنگ کے لیے ایک حساس راستہ بن سکتے ہیں۔

Related Posts