وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزا فاطمہ خواجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ پاکستان نے عالمی ٹیکنالوجی اور آؤٹ سورسنگ کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل حاصل کر لیا ہے، جہاں وہ اٹاراکسس (Ataraxis) کی مرتب کردہ 2026 کی گلوبل آؤٹ سورسنگ ٹیلنٹ انڈیکس میں 193 ممالک میں سے 16ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
اس پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ پاکستان اب آؤٹ سورسنگ ٹیلنٹ کی مسابقت کے لحاظ سے دنیا کے سرفہرست 9 فیصد ممالک میں شامل ہو چکا ہے، جو ملک کی ڈیجیٹل ورک فورس اور ٹیکنالوجی ایکوسسٹم میں مضبوط ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس انڈیکس میں کئی علاقائی اور عالمی معیشتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جن میں چین (37واں)، ویتنام (32واں) اور کولمبیا (31واں) شامل ہیں۔
شزا فاطمہ کے مطابق پاکستان نے متعدد مغربی یورپی ممالک جیسے جرمنی (84واں)، فرانس (73واں)، اسپین (49واں) اور برطانیہ (29واں) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
وزیر نے مزید بتایا کہ پاکستان نے 100 میں سے 80 کا ٹیلنٹ اسکور حاصل کیا ہے، جس کے ساتھ وہ اس مخصوص پیمانے پر عالمی سطح پر 8ویں نمبر پر ہے۔ یہ اسکور ورک فورس کی صلاحیت، موافقت اور آؤٹ سورسنگ کی استعداد کو جانچتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس انڈیکس میں شامل یورپی یونین کے تمام ممالک، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور افریقی خطے کے تمام ممالک کے مقابلے میں بھی پاکستان کی درجہ بندی بہتر رہی ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے اس پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ٹیکنالوجی اور آؤٹ سورسنگ کا شعبہ سالانہ تقریباً 20 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے، جو قومی ٹیکنالوجی ایکوسسٹم کی مضبوطی اور لچک کا واضح ثبوت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








