عمران خان کے کارکنوں نے مولانا طاہر اشرفی کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ دیکھیں ویڈیو وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر محمود اشرفی کو ہفتے کی شب لندن کے مرکزی علاقے میں ایک سیاسی وابستگی رکھنے والے پاکستانی نوجوانوں کے گروہ کی جانب سے صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ وسطی لندن کے ایڈگور روڈ پر پیش آیا جہاں ماحول اچانک کشیدہ ہو گیا اور دونوں جانب سے سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا۔

اطلاعات کے مطابق مولانا طاہر اشرفی اپنی ڈلیگیشن کے ارکان کے ساتھ جن میں خواتین بھی شامل تھیں رات کے کھانے کے لیے جا رہے تھے کہ اسی دوران نوجوانوں کے ایک گروہ نے انہیں گھیر لیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ گروہ تقریباً دس منٹ تک ان کا پیچھا کرتا رہا اور اس دوران زبانی بحث و تکرار جاری رہی۔

نوجوانوں نے مولانا طاہر اشرفی پر الزام لگایا کہ وہ پاکستان کی موجودہ حکومت اور فوج کے حامی یا تابع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حمایت کے حوالے سے ان کے موقف پر نالاں تھے۔

دوسری جانب مولانا طاہر اشرفی نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور فوج کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی عالمی ساکھ میں بہتری آئی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ ان کے ساتھ بدسلوکی اور ہراسانی کی گئی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس قسم کے غیر مہذب رویے سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکیوں یا دباؤ کے باوجود وہ ملک کے اداروں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

اس واقعے کی ویڈیوز اس وقت ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہیں۔ ویڈیو میں صرف زبانی تکرار دکھائی دیتی ہے جبکہ کوئی جسمانی تصادم یا حملے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مولانا اشرفی صورتحال میں ڈٹے رہتے ہیں اور لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہیں۔

Related Posts