حکومت کا سولر صارفین سے فیس وصولی کے معاملے پر نظر ثانی کا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

سولر
(فوٹو: ڈان)

پاور ڈویژن نے سولر توانائی استعمال کرنے والے صارفین سے فیس وصولی کے معاملے پر ازسرنو غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ توانائی اویس لغاری نے سفارش دی ہے کہ 25 کلوواٹ تک بجلی پیدا کرنے والے سولر صارفین سے فیس ختم کر دی جائے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔

پاور ڈویژن نے نیپرا سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ لائسنس فیس سے متعلق شرط کو ختم کیا جائے، جبکہ نئے ریگولیٹری قواعد پر بھی پاور ڈویژن نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ادارے نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ 2015 کے پرانے سولر قواعد کو دوبارہ نافذ کیا جائے، اور چھوٹے صارفین پر لائسنس یا فیس کی لازمی شرط کو غیر ضروری قرار دیا گیا ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق سولر انڈسٹری نے بھی حالیہ متعارف کرائے گئے نئے ضوابط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے انتظامی رکاوٹیں کم کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب شدید گرمی کے باعث ملک میں سولر سسٹمز کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ درآمدی اخراجات میں اضافہ اور طلب میں غیر معمولی اضافہ مل کر سولر پینلز اور متعلقہ آلات کو مہنگا کر رہے ہیں، جس کا بوجھ براہ راست عام صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

Related Posts