پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ نے روزمرہ مالی معاملات میں خاصی سہولیات پیدا کی ہیں مگر اسی کے ساتھ یہ ایک ایسا غیر محسوس خطرہ بھی بنتی جا رہی ہے جس کا شہری اکثر اندازہ نہیں لگا پاتے۔ سائبر مجرم اب روایتی طریقوں کے بجائے ایسے نفسیاتی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جن میں عام اور تعلیم یافتہ دونوں طرح کے افراد الجھ سکتے ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کے ایک شہری نے بروقت سمجھداری دکھاتے ہوئے نہ صرف اپنی بڑی رقم محفوظ رکھی بلکہ ایک ممکنہ سائبر حملے کو بھی ناکام بنا دیا۔ کراچی کے رہائشی مدثر غفور کو ایک کال موصول ہوئی جس میں عائشہ نامی خاتون نے خود کو ٹی سی ایس کے مرکزی دفتر کی نمائندہ بتایا۔
مزید حیران کن بات یہ تھی کہ اسے پہلے سے علم تھا کہ مدثر کے نام ایک مخصوص ادارے سے پارسل یا خط آنے والا ہے، جس نے اس کال کو بظاہر حقیقی بنا دیا۔ مدثر کے مطابق انہوں نے کال اس لیے سنی کیونکہ واقعی انہیں ٹی سی ایس کی ڈیلیوری متوقع تھی
مدثر کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ایسے عناصر اب اندھا دھند کوششیں نہیں کرتے بلکہ لوگوں کی ممکنہ سرگرمیوں اور روزمرہ معمولات کو پہلے سے ٹریک کرکے حملہ کرتے ہیں۔ بعد ازاں انہیں واٹس ایپ پر ایک اسکرین شاٹ بھیجا گیا اور اس کی تصدیق کرنے کو کہا گیا۔
جیسے ہی مدثر نے وہ پیغام کھولا تو ان کے موبائل سسٹم نے سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا، جبکہ اسی دوران ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو کسی دوسرے ڈیوائس پر منتقل کرنے کی کوشش بھی جاری تھی، جس نے مدثر کو ہوشیار کردیا۔
سائبر سیکیورٹی کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے مدثر نے فوری اور درست فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں اگر ذرا بھی شک پیدا ہو جائے کہ فون یا اکاؤنٹ ہیک ہو رہا ہے تو بحث کرنے یا وقت ضائع کرنے کے بجائے فوراً انٹرنیٹ بند کر دینا یا فون آف کر دینا چاہیے، تاکہ حملہ آور کا رابطہ سسٹم سے ٹوٹ جائے اور وہ اپنا عمل مکمل نہ کر سکے اور مدثر نے یہی کیا۔
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مطابق ایسے گروہ اکثر جعلی ناموں پر رجسٹرڈ سمز اور انٹرنیٹ کالز کے ذریعے شناخت چھپاتے ہیں، جس سے ان تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ کبھی سرکاری امدادی پروگراموں کے نام پر لالچ دیتے ہیں اور کبھی بینک اکاؤنٹ بند ہونے کا خوف پیدا کرکے شہریوں کو الجھاتے ہیں، یعنی ان کا ہدف صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانی ذہن اور جذبات بھی ہوتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








