بین الاقوامی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 96 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک پاکستان بھیجے جانے والے ایک سفارتی وفد کا منصوبہ منسوخ کر دیا۔
پیر کی صبح بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت تقریباً 96.60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو ویک اینڈ کے دوران لگ بھگ 2 فیصد اضافے کے بعد مزید بڑھی۔ تاجروں نے خلیج فارس میں سفارتی کامیابی کے امکانات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کر دیا۔
اسی طرح عالمی معیار برینٹ خام تیل بھی 107 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا پہنچا جس میں بھی تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ آبنائے ہرمز جیسے اہم علاقے میں طویل کشیدگی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے۔
اس سے قبل مارکیٹوں میں سفارتی پیش رفت کی وجہ سے توقع پیدا ہوگئی تھی جب ٹرمپ نے سینئر نمائندوں جن میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے کو اسلام آباد بھیجا تاکہ ایرانی رابطہ کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکے۔ ان امیدوں نے وقتی طور پر قیمتوں کو نیچے لایا اور WTI تقریباً 2.50 ڈالر فی بیرل کم ہو گیا کیونکہ سرمایہ کار اس امکان پر شرط لگا رہے تھے کہ کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے جو امریکی بندرگاہی پابندیوں اور ایرانی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی لا سکتا ہے۔
اب جبکہ یہ سفارتی مشن منسوخ ہو چکا ہے اور وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کی بحری سرگرمیوں پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا یا مزید بڑھایا جا سکتا ہے تاجر اب بالکل الٹ صورتحال کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔
سنگاپور کے ایک بڑے بینک کے کموڈیٹی اسٹریٹجسٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا خام تیل کی قیمتوں کے لیے کوئی حد نہیں ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو ہر ناکام مذاکراتی مرحلے کے ساتھ بڑھتے ہوئے دباؤ سے تشبیہ دی۔
پاکستان کے لیے عالمی تیل کی قیمتوں میں یہ نیا اضافہ پہلے سے دباؤ کا شکار توانائی درآمدی بجٹ پر مزید بوجھ ڈالے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان توازن قائم رکھنا بھی مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں ممالک اس کشیدگی میں پاکستان کو ایک اہم علاقائی کردار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








