پاکستانی آم کی پیداوار اور معیار خطرے میں! فروٹ ایکسپورٹرز کا حکومت سے بڑا مطالبہ سامنے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز مرچنٹس ایسوسی ایشن نے تجویز دی ہے کہ آم کی برآمدات کا آغاز یکم جون سے کیا جائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق رواں سیزن میں آم کی فصل کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا ہے جس کے باعث معیار اور پیداوار دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز مرچنٹس ایسوسی ایشن (PFVA) کا کہنا ہے کہ آم کو روایتی ذائقے، مٹھاس اور خوشبو کے لیے درختوں پر زیادہ دیر تک رہنے کی ضرورت ہوتی ہے تاہم گرمیوں کی آمد میں تاخیر اور مطلوبہ نمی نہ ملنے کے باعث آم کی فصل مناسب طریقے سے تیار نہیں ہو سکی۔

ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق آم کو پاکستان کا سفیر سمجھا جاتا ہے اور اگر اسے کم معیار کے ساتھ برآمد کیا گیا تو ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت میں غیر ملکی خریدار پاکستانی آم سے دور ہو کر حریف ممالک کی پیداوار کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

رواں سیزن میں آم کی مجموعی پیداوار 25 لاکھ ٹن تک متوقع ہے جبکہ 80 ہزار سے ایک لاکھ ٹن آم برآمد کیے جانے کا امکان ہے۔ آم کی برآمدات کے حتمی ہدف کا اعلان 15 مئی کو کیا جائے گا۔

ایسوسی ایشن نے زور دیا ہے کہ برآمدات کا آغاز ایسے وقت میں کیا جائے جب آم مکمل طور پر پکا ہوا اور معیار کے مطابق ہو تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی آم کی ساکھ برقرار رکھی جا سکے۔

Related Posts