خیبر پختونخوا نے پنجاب سے 64 ارب روپے مانگ لیے مگر کیوں؟ جانیں مکمل تفصیل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان گلیات کے علاقے سے مری کو پانی کی فراہمی پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے جس میں کے پی حکومت نے 64 ارب روپے سے زائد کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے آبی وسائل کی تقسیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ شدید پانی کی قلت کے باوجود مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر پانی نکالا جا رہا ہے۔ حکومت کے مطابق اس صورتحال سے مقامی ضروریات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

صوبائی حکام نے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو خطوط ارسال کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ 1947 سے اب تک پنجاب کے ذمے گلیات کے پانی کے استعمال کے بدلے 64.62 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

خط میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ گلیات خود بھی پانی کی کمی کا شکار ہے اس کے باوجود مری واٹر بورڈ مبینہ طور پر علاقے سے بغیر کسی باقاعدہ معاہدے یا ادائیگی کے روزانہ تقریباً 5 لاکھ گیلن پانی حاصل کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ گلیات میں مری واٹر بورڈ کی جانب سے جاری پانی کی ترسیل کے منصوبے فوری طور پر روکے جائیں جن میں ڈونگا گلی میں 20 لاکھ گیلن کے پانی کے ٹینک کی تعمیر بھی شامل ہے جو مبینہ طور پر گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی اجازت کے بغیر جاری ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب کو فوری طور پر تقریباً 65 ارب روپے کے واجبات ادا کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق گلیات کا پانی قیامِ پاکستان سے ہی مری کے لیے استعمال ہوتا آ رہا ہے جس پر باقاعدہ حساب کتاب ضروری ہے۔

Related Posts