ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران امریکا جنگ کے خاتمے کیلئے تجاویز پیش کردی ہیں جن کی منظوری کی صورت میں دونوں ممالک کے مابین مستقل جنگ بندی اور پھرآبنائے ہرمز کھولے جانے کے نتیجے میں عالمی معیشت کی بحالی کے امکانات بڑھتے نظر آتے ہیں۔
یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ایران کی جانب سے یہ تجاویز کا معاملہ پاکستان کی جانب سے بیک چینل ڈپلومیسی کا نتیجہ ہے جس کے باعث کسی بھی مرحلے پر ایسا محسوس نہیں ہوا کہ دونوں ممالک ایک بند گلی میں کھڑے ہیں اور اب واحد حل جنگ ہی رہ گیا ہے، جیسا کہ پاکستان کی جانب سےسہولت کاری اورثالثی سے قبل محسوس ہوتا تھا، جس نے 47سال سے ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے والی 2 اقوام کو مذاکرات کی ایک میز پر نہ صرف بٹھایا بلکہ جنگ بندی کی راہیں بھی ہموار کیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان، بحیرۂ عرب کے اہم آبی راستے آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہونے کے ناطے، اس اسٹریٹجک گزرگاہ میں محفوظ آمد و رفت اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ماہرین کی سطح پر مشاورت جاری رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات انتہائی تعمیری اور نتیجہ خیز رہے جن میں ان مخصوص حالات کا جائزہ لیا گیا جن کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ مذاکرات کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےایران کیلئے کسی بھی وقت رابطے کا رد کھلا رکھ کر واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے بھی جنگ بندی کی جانب جھکاؤ برقرار ہے اور ایک بار جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ دوبارہ جنگ شروع کریں گے تو انہوں نے اس کا جواب نفی میں دیا اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب ایرانی قوم پر بیان بازی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اس کے آگے جھکتی نہیں اور راقم الحروف کو یقین ہے کہ اگر امریکا کو اس کا ادراک نہیں بھی تو اسے دلوایا جارہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تاہم وہ مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن میں ایک میڈیا ڈنر پر ہونے والے حالیہ حملے کے باوجود ان کی توجہ ایران کے ساتھ جاری تنازع پر ہی مرکوز رہے گی اور یہ واقعہ ان کے جنگی مؤقف کو تبدیل نہیں کرے گا۔ روسی نمائندہ برائے بین الاقوامی تنظیمیں ویانا میں میخائل اولوایانوف نے بھی کہا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے تو امریکہ کو دھمکی آمیز رویہ اور الٹی میٹم کی پالیسی ترک کرنا ہو گی۔
اگر دونوں ممالک بیک وقت آبنائے ہرمز کھول دیں تو جنگ بندی کی راہ مزید ہموار ہوسکتی ہے اور یہاں یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد سے مذاکرات کے بعد بیان دیا تو بتایا کہ 21 گھنٹے طویل مذاکرات میں صرف ایک ہی نکتے پر جو ایران کی جوہری افزودگی سے متعلق ہے، اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ روس بھی کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ روس بھی ایران کا کافی اچھا دوست ہے جو اس کی مدد کرتا رہا ہے، ایران کے پاس جو ہتھیار موجود ہیں، ان میں چین کے علاوہ روس کا بھی عمل دخل نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ روس نے جوہری معاملات میں بھی ایران کی مدد کی ہے جبکہ ایران انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) پر بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ اس پر امریکا کا اثر و رسوخ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
دوسری جانب لبنان میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے جہاں اتوار کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں 2 خواتین اور 2 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 37 افراد زخمی ہوئے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق یہ حملے جنوبی لبنان میں کیے گئے جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کی صبح اسرائیلی افواج نے کفرہ کے داخلی راستے پر چھاپہ مار کارروائی کی اور شہر جانے والی مرکزی سڑک کو بھی بند کر دیا۔
مجموعی طور پر جنگ کے 59ویں روز صورتحال اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ ایک طرف ایران، روس، عمان اور پاکستان کے ذریعے سفارتی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں، خصوصاً جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات پر۔ تاہم علاقائی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اس امکان کو جنم دے رہی ہیں کہ اگر تمام فریقین لچک کا مظاہرہ کریں تو خطہ ایک بڑے اور طویل بحران سے نکل کر کسی فریم ورک کی طرف باآسانی بڑھ سکتا ہے، جس میں نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی ایک متفقہ حل کی جانب پیش رفت کر سکیں گی۔
محسوس کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی قیادت پر بھی کافی دباؤ ہے جبکہ اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ جنگ بندی کے معاملات آگے نہ بڑھیں بلکہ کسی نہ کسی طرح سے جنگ دوبارہ شروع ہوجائے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی کے حق میں اس لیے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ اگر جنگ کا سلسلہ جاری رہا تو قوی امکان ہے کہ وہ نومبر میں انتخابات ہار جائیں گے اور اگر ایسا ہوا تو 25ویں ترمیم لاگو ہونے اور صدر کے مواخذے کا بھی خدشہ ہے۔ ان ممکنہ مسائل کا ادراک کرتے ہوئے امریکی صدر نے جنگ بندی کیلئے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیں، جبکہ دنیا آبنائے ہرمز کی طویل بندش کی متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ ہر گزرتے روز کے ساتھ مہنگائی ، کساد بازاری اور معاشی تباہی و بربادی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر اس مسئلے کو حتمی طور پر حل کرلیں، اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں