امریکا نے ویزا اسکریننگ سے متعلق ایک نیا پالیسی ڈھانچہ متعارف کروایا ہے جس پر امیگریشن ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی سے ویزا درخواست دہندگان کی جانچ کے طریقہ کار میں بنیادی ردوبدل ہو گیا ہے۔
نئی ہدایت کے تحت اب ایسے افراد کو بھی ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے جو اپنے ملک میں سکیورٹی یا خطرات سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ اس اقدام کو امریکی امیگریشن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے جو برسوں سے جاری روایتی طریقہ کار سے مختلف ہے۔
یہ اصول عارضی ویزا کی کئی اقسام پر لاگو ہوگا جن میں سیاحتی (B-1/B-2)، تعلیمی اور بعض ورک ویزے شامل ہیں۔ اس سے متاثر ہونے والے درخواست دہندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ پالیسی 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر سے منسلک ہے جسے اس وقت کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کی حمایت بھی حاصل ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عارضی ویزا کا غلط استعمال نہ ہو اور لوگ بعد میں امریکا پہنچ کر پناہ (asylum) کی درخواست نہ دیں۔
اس سے پہلے ایسے خدشات پر غور صرف امریکا پہنچنے کے بعد پناہ کے عمل کے دوران کیا جاتا تھا لیکن اب اس اسکریننگ کو بیرونِ ملک ویزا انٹرویو کے مرحلے پر ہی شامل کر دیا گیا ہے جس کے باعث درخواست دہندگان کو ممکنہ طور پر اپنے پناہ کے ارادوں کا اظہار پہلے ہی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگرچہ امریکی حکام اس پالیسی کو امیگریشن نظام کی شفافیت اور تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں تاہم ناقدین اور پناہ گزینوں کے حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کمزور اور خطرے سے دوچار افراد کے لیے تحفظ حاصل کرنا مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








