سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر 28 اپریل 2026 سے متعدد پرو-ایران اکاؤنٹس نے ایک ویڈیو شیئر کرنا شروع کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایران پر میزائل حملوں کی فوٹیج ہے تاہم ان پوسٹس میں حملہ آور فریق واضح نہیں کیا گیا جبکہ یہ مواد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پھیلایا گیا تاہم بعد میں تصدیق سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور 7 مارچ 2026 کو تہران کے آئل ڈپو پر اسرائیلی حملے کی ہے۔
دعوے کی نوعیت اور ابتدائی تجزیہ
وائرل پوسٹس میں یہ تاثر دیا گیا کہ ایران پر بڑا میزائل حملہ ہوا ہے لیکن آئی ویریفائی پاکستان کی تحقیق کے مطابق یہ دعویٰ گمراہ کن پایا گیا ٹیم نے ریورس امیج سرچ اور کی ورڈ سرچ کے ذریعے اصل ویڈیو کا سراغ لگایا۔
🚨عاجل:
أفادت التقارير أن إيران واجهت هجومًا صاروخيًا كبيرًا.
قد تصل الحرب إلى نقطة تحول حاسمة الليلة.
صلّوا من أجل إيران 🇮🇷 pic.twitter.com/vXHZXRDCJl
— مسعود بيزشكيان (@MasoudPazesh) April 29, 2026
🚨آخر الأخبار
إيران تطلق ما يُوصف بأخطر هجوم لها حتى الآن ضد إسرائيل هذه الليلة🔥
من خلال صواريخها، ترسل إيران رسالة إلى العالم
الأمم المتعجرفة لا تخاف من التهديدات pic.twitter.com/OIvzUHJMNo— الأحداث الإيرانية | عاجل 🚨 (@ab1hr) April 28, 2026
اصل واقعہ کیا تھا؟
یہ ویڈیو اس واقعے سے متعلق ہے جب 7 مارچ 2026 کو اسرائیل نے تہران کے شَہران آئل ڈپو پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں شدید آگ اور دھماکوں کی ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔ اسی وقت اسرائیلی دفاعی فورسز نے متعدد ایرانی فیول ڈپوز کو نشانہ بنایا تھا۔
جنگ بندی اور خطے کی صورتحال
اسرائیل اور امریکا نے 28 فروری 2026 کو ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ بعد ازاں 7 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا جس کا آغاز 8 اپریل سے ہوا۔ یہ معاہدہ پاکستان کی ثالثی سے ممکن ہوا اور بعد میں 21 اپریل کو اسے غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا۔
تاہم مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے 13 اپریل 2026 کو ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی شروع کر دی جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
ویڈیو کیسے وائرل ہوئی؟
28 اپریل کو ایک پرو-ایران اکاؤنٹ نے یہ ویڈیو ایمرجنسی کے عنوان سے پوسٹ کی جسے لاکھوں ویوز ملے جبکہ بعد میں متعدد اکاؤنٹس نے بھی اسی طرح کے دعووں کے ساتھ ویڈیو شیئر کی جس سے یہ تیزی سے وائرل ہو گئی۔
تحقیق کا طریقہ کار
آئی ویریفائی پاکستان نے اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے متعدد مراحل میں تحقیق کی۔ نہ تو کسی معتبر میڈیا ادارے نے اس ویڈیو کو حالیہ واقعہ قرار دیا اور نہ ہی کوئی بیک وقت رپورٹ موجود تھی۔ ریورس امیج سرچ کے ذریعے یہ ویڈیو عالمی میڈیا رپورٹس میں مارچ 2026 کے واقعے سے منسلک پائی گئی۔
تحقیقات سے واضح ہوا کہ وائرل ویڈیو آج کی نہیں بلکہ 7 مارچ 2026 کے اسرائیلی حملے کی پرانی فوٹیج ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ گمراہ کن (Misleading) قرار دیا گیا ہے۔
ویڈیو کے اصل ویڈیو ذرائع (YouTube / Media Links)
NDTV Profit کی اصل ویڈیو رپورٹ
اسی واقعے کی دیگر میڈیا کوریج (Geo News یوٹیوب رپورٹ)
Al Jazeera کی ویڈیو رپورٹ (مارچ 7، 2026)
https://www.youtube.com/watch?v=AlJazeeraVideoLinkPlaceholder
اضافی نیوز کلپ جس میں اسی حملے کی فوٹیج دکھائی گئی
https://www.youtube.com/watch?v=AdditionalNewsClipPlaceholder
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








