چینی خریدنا ناممکن ہوجائے گا؟ 18 فیصد ٹیکس نے نئی مشکل کھڑی کر دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی حکومت نے درآمد شدہ چینی پر دوبارہ 18 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کر دیا ہے اور اس رعایت کو ختم کر دیا ہے جو گزشتہ سال مقامی مارکیٹ میں سپلائی کو مستحکم رکھنے کیلئے دی گئی تھی۔

اگست 2025 میں دی گئی اس ٹیکس چھوٹ کے تحت درآمدی چینی پر سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کرکے صرف 0.25 فیصد کر دیا گیا تھا۔یہ سہولت خاص طور پر ٹریڈنگ کارپوریشن پاکستان کو دی گئی تھی جس کے تحت حکومت کی منظوری سے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

حالیہ فیصلے کے مطابق اس کم شدہ ٹیکس کو ختم کر دیا گیا ہے اور دوبارہ 18 فیصد کی پرانی شرح بحال کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ نئی شرح 22 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔

دوسری جانب پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران چینی کی درآمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال کے پہلے سات مہینوں (جولائی تا جنوری) میں چینی کی درآمدات میں 7,906.15 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس کی مالیت 17.46 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ صرف 211,800 ڈالر تھی۔

صرف جنوری 2026 میں ہی چینی کی درآمد 23.4 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جو ماہانہ بنیاد پر 46.38 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

مجموعی طور پر خوراک کی درآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو جنوری میں 7.74 فیصد اور سات ماہ کے عرصے میں 19.26 فیصد بڑھ گئیں جبکہ مجموعی مالیت 5.5 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی۔

Related Posts