اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں کو کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، جس کی وجہ وزیراعظم کی جانب سے ون آئین ایونیو میں کارروائی روکنے کے احکامات بنے ہیں۔ سینئر صحافی کاشف عباسی نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا کہ اس فیصلے کے بعد دارالحکومت میں جاری وسیع انسدادِ تجاوزات مہم پر بھی بریک لگ گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت گزشتہ روز جاری کی گئی، جس کے بعد نہ صرف متنازع ون آئین ایونیو آپریشن روک دیا گیا بلکہ سرکاری زمینوں کو واگزار کرانے کی وہ مہم بھی معطل ہو گئی جو مختلف علاقوں میں جاری تھی۔ ان کارروائیوں کے دوران حال ہی میں باری امام کے علاقے میں برسوں سے مقیم غریب اور غیر مسلح رہائشیوں کو بھی بے دخل کیا گیا تھا۔
اس سے قبل وزارت داخلہ نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ مہم بغیر کسی تفریق کے جاری رہے گی یعنی امیر و غریب دونوں طبقوں سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی جائے گی تاہم وزیراعظم کی مداخلت کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور اب یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ بڑے اور بااثر منصوبے وقتی طور پر محفوظ ہو گئے ہیں جبکہ متاثرہ غریب آبادی پہلے ہی نقصان اٹھا چکی ہے۔
کاشف عباسی کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں اب اسلام آباد میں مزید کوئی بڑی انسدادِ تجاوزات کارروائی اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک ون آئین ایونیو کے معاملے کا حل نہیں نکل آتا۔ اس صورتحال نے انتظامی سطح پر بھی سوالات کو جنم دیا ہے خصوصاً اس حوالے سے کہ کیا قانون کا اطلاق سب کے لیے برابر ہے یا نہیں۔
صحافی کاشف عباسی @AbbasiKashif833 کی خبر کے مطابق ‘ون کانسٹیٹیوشن ایونیو’ معاملے نے حکومت کے اندر بھی پھڈا ڈال دیا ” وزیر اعظم نے کل ون کانسٹیٹیوش ایونیو آپریشن روکنے کا حکم دیا تو سی ڈی اے نے ون کانسٹیٹیوشن آپریشن روکنے کے ساتھ ساتھ پورے اسلام آباد میں تجاوزات اور سرکاری زمینیں… pic.twitter.com/kQL47Bgs8y
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) May 2, 2026
ناقدین کا کہنا ہے کہ باری امام جیسے علاقوں میں دہائیوں سے مقیم لوگوں کے ساتھ سخت کارروائی اور بڑے بااثر منصوبوں کے ساتھ نرمی واضح تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ اس پورے معاملے نے اسلام آباد میں زمینوں کی واگزاری کی پالیسی کو ایک بار پھر بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
یہ پیشرفت اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ حکومت کو اب اپنے اعلان کردہ برابری کے اصول اور زمینی حقائق کے درمیان توازن پیدا کرنے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے جہاں طاقت اور اثر و رسوخ کا عنصر فیصلوں پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








