پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں 130 ایکڑ اراضی کے دیرینہ تنازع نے رواں ہفتے خطرناک رخ اختیار کر لیا جب سولنگی اور بگتی قبائل کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کے نتیجے میں 15 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
26 اپریل سے سامنے آنے والی مختلف رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں بگتی قبیلے کے 8 جبکہ سولنگی قبیلے کے 7 افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں سولنگی قبیلے کے رہنما عبداللہ سولنگی بھی شامل تھے جبکہ جوابی کارروائی میں بگتی رہنما حالی خان بگتی کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
یہ تنازع کئی برسوں سے 130 ایکڑ زمین پر جاری تھا تاہم اچانک یہ جھگڑا شدت اختیار کرتے ہوئے باقاعدہ مسلح تصادم میں بدل گیا جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ جھڑپ والی رات شدید فائرنگ کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر آگ بھی بھڑک اٹھی۔
صورتحال کے انتہائی کشیدہ ہونے اور مزید خونریزی کے خدشے کے پیش نظر پاک فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور مزید جھڑپوں کو روکنے کے لیے سخت سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
علاقائی میڈیا کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر میں فوجی اہلکاروں کو صحرائی وردی میں عسکری گاڑیوں کے قریب تعینات دیکھا جا سکتا ہے جبکہ کچھ مناظر میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو میتوں کے پاس سوگ میں ڈوبا ہوا بھی دکھایا گیا۔
26 سے 30 اپریل کے دوران یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی خاصا زیر بحث رہا جہاں سندھی اور اردو زبان میں متعدد پوسٹس میں ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے امن کی اپیل کی گئی۔ عوامی ردعمل مختلف رہا کچھ افراد نے قبائلی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے قانون کی عملداری پر زور دیا جبکہ بعض نے متنازع زمین پر فوجی کنٹرول پر سوالات اٹھائے۔ چند صارفین نے ان خبروں کو مسترد بھی کیا۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ڈیرہ غازی خان میں زمین، پانی اور غیرت کے تنازعات پر قبائلی جھڑپیں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ 2025 میں لغاری قبیلے کی برمانی اور جوگیانی شاخوں کے درمیان تصادم میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ فروری 2025 میں جندانی اور عالیانی گروپوں کے درمیان لڑائی میں پانچ جانیں گئی تھیں۔
تاحال اپریل 2026 کے اس واقعے پر پنجاب پولیس یا آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تاہم علاقے میں حالات بدستور کشیدہ ہیں لیکن فوج کی نگرانی میں قابو میں بتائے جا رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








