ملک میں مہنگائی کی شرح نے تشویشناک حدیں عبور کر لی ہیں جہاں اپریل 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس بڑھ کر 10.9 فیصد تک جا پہنچا۔ یہ نمایاں اضافہ نہ صرف وزارتِ خزانہ کے 8 سے 9 فیصد کے تخمینے سے زیادہ ہے بلکہ اسٹیٹ بینک پاکستان کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی ہدف سے بھی خاصا اوپر نکل گیا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی دوبارہ 2024 کے قریب ترین بلند سطحوں پر پہنچ رہی ہے جس سے گزشتہ چند ماہ کی نسبتاً بہتری کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے خاص طور پر عام شہریوں کی قوتِ خرید میں کمی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
شہری اور دیہی علاقوں میں فرق
ملک بھر میں مہنگائی کے اثرات یکساں نہیں رہے بلکہ مختلف علاقوں میں اس کی شدت مختلف انداز میں سامنے آئی ہے جو بنیادی معاشی تفاوت کو ظاہر کرتی ہے۔
شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی جس کی بڑی وجہ کرایوں اور یوٹیلیٹی بلز میں اضافہ ہے۔
دیہی علاقوں میں مہنگائی اگرچہ نسبتاً کم یعنی10.6فیصد رہی تاہم یہ بھی دوہرے ہندسوں میں ہونے کی وجہ سے خطرناک حد کو ظاہر کرتی ہے اور اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ سپلائی چین کے مسائل پورے ملک کو متاثر کر رہے ہیں۔
اہم وجوہات: لاگت میں اضافہ
مہنگائی میں اس تیزی کی بنیادی وجہ اشیائے ضروریہ اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرانسپورٹ اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس ماہ بہ ماہ اتار چڑھاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مختلف شعبوں میں قیمتوں میں اضافہ گھریلو اخراجات پر دباؤ بڑھا رہا ہے:
رہائش اور یوٹیلیٹیز کے شعبے میں مہنگائی 16.8 فیصد تک پہنچ گئی جو پہلے 11.5 فیصد تھی۔
خوراک اور مشروبات کی قیمتیں بڑھ کر 7.6 فیصد ہو گئیں جو پچھلے مہینے 3.6 فیصد تھیں جس سے عام گھرانوں کے اخراجات براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
ہول سیل سطح پر دباؤ اور خطرات
مستقبل میں قیمتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویشناک اشارہ ہول سیل پرائس انڈیکس ہے جو اپریل میں 6.7 فیصد سے بڑھ کر 13.6 فیصد تک جا پہنچا۔ اس تیز اضافے سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافہ جلد صارفین تک منتقل ہو جائے گا جس سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
پالیسی صورتحال اور ماہرین کی رائے
مہنگائی میں حالیہ اضافے اور اس کے دوہرے ہندسوں کے قریب رہنے نے اسٹیٹ بینک پاکستان کے لیے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے اجلاسوں میں شرح سود میں اضافے جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاکہ مہنگائی کو قابو میں لایا جا سکے۔
ماہرین کا نقطۂ نظر: آگے کا منظرنامہ
عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال بھی مہنگائی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس رجحان کو مزید برقرار رکھ سکتا ہے۔
ایک ماہر کے مطابق مقامی طلب میں اضافہ اور بیرونی سپلائی مسائل ایک ساتھ اثر ڈال رہے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی 11 سے 11.5 فیصد کے درمیان مستقل رہ سکتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مالیاتی اور مانیٹری دونوں سطحوں پر سخت فیصلے ضروری ہوں گے۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت پر اب دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بنیادی اصلاحات متعارف کروائے کیونکہ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مہنگائی میں کمی کا دور شاید ختم ہو چکا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








