پاکستان میں فیس بک، انسٹا گرام اور یوٹیوب بند؟ پی ٹی اے اور ٹیک جائنٹس میں بڑا ٹکراؤ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آگاہ کیا ہے کہ بڑی عالمی سوشل میڈیا کمپنیاں، جن میں فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب شامل ہیں بارہا رابطوں کے باوجود پاکستان میں رجسٹریشن کروانے سے انکار کر رہی ہیں۔

اجلاس کے دوران پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ اگرچہ تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مقامی رجسٹریشن کے لیے رابطہ کیا گیا تھا تاہم کسی بھی بڑی کمپنی کی جانب سے مثبت جواب سامنے نہیں آیا۔

اتھارٹی کے مطابق پاکستان کے قوانین میں واضح طور پر یہ شرط موجود ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ملک میں اپنا نمائندہ مقرر کریں اور غیر قانونی مواد ہٹانے کے ضوابط پر عمل کریں لیکن اس کے باوجود عدم تعمیل کا سلسلہ جاری ہے۔

حکام نے مزید بتایا کہ حکومت اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان یہ تعطل غیر قانونی آن لائن مواد کی روک تھام اور ہٹانے کے قواعد پر اختلافات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ جہاں کچھ چھوٹے پلیٹ فارمز اور بعض چینی ایپس نے رجسٹریشن مکمل کر لی ہے وہیں میٹا اور گوگل جیسے بڑے ادارے ابھی تک اس سے گریز کر رہے ہیں جن کا موقف ہے کہ اس سے ڈیٹا پرائیویسی، اظہار رائے کی آزادی اور مقامی دفاتر کے اخراجات جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

پی ٹی اے حکام نے یہ بھی بتایا کہ صارفین کی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور صرف گزشتہ ایک سال میں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار شکایات درج کی گئی ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں ممکنہ سخت اقدامات پر بھی غور کیا گیا جن میں پلیٹ فارمز پر پابندی جیسے آپشنز شامل ہیں تاکہ مجرمانہ تحقیقات کے لیے ڈیٹا شیئرنگ اور غیر قانونی یا قابل اعتراض مواد کے فوری خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔

Related Posts