سعودی حکام نے حج کے لیے عمر کی حد مقرر کرتے ہوئے دی ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو 2025 کے حج سیزن سے شرکت کی اجازت نہیں ہوگی اور یہ پابندی حج 2026 تک برقرار رہے گی۔
حکام کے مطابق کم عمر درخواست گزاروں کو جاری کیے گئے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں جبکہ ایئرلائنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ مقررہ عمر سے کم زائرین کو سفر کی اجازت نہ دی جائے۔ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو ان کی منسوخ شدہ درخواستوں کی مکمل رقم واپس کر دی جائے گی۔
وزارت حج و عمرہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانے اور حج کے دوران ہجوم کو بہتر انداز میں منظم کرنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ اس عبادت کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں۔
وزارت نے وضاحت کی کہ 15 سال سے کم عمر بچے حج کی جسمانی مشقت اور خطرات کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور انہیں تھکن، پانی کی کمی اور رش والے مقامات پر حادثات جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اگرچہ اب کم از کم عمر 15 سال مقرر کر دی گئی ہے لیکن زیادہ سے زیادہ عمر کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی تاہم 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے لازم ہے کہ وہ کسی سرپرست کے ساتھ سفر کریں۔ یہ پابندی عمرہ پر لاگو نہیں ہوتی جہاں کم عمر بچوں کو اب بھی اجازت ہے البتہ رش کے دنوں میں وقتی حدود نافذ کی جا سکتی ہیں۔
یہ اقدام حج کے انتظامات اور حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی وسیع اصلاحات کا حصہ ہے کیونکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے سالانہ اجتماعات میں شمار ہوتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








