سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر 29 اپریل 2026 سے ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی تھی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ اسرائیلی فوج کے ہیڈکوارٹر پر حزب اللہ کے حملے کے بعد لگنے والی شدید آگ کی منظرکشی ہے تاہم تفصیلی فیکٹ چیک سے یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ غلط اور گمراہ کن ہے اور ویڈیو کسی اور واقعے سے متعلق ہے۔
ابتدائی طور پر یہ مواد مختلف اکاؤنٹس نے شیئر کیا جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں اسرائیلی فوجی تنصیب پر حملے کے بعد شدید آگ اور تباہی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ پوسٹس تیزی سے وائرل ہوئیں اور ہزاروں ویوز حاصل کیے تاہم کسی بھی مستند ذریعے نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
BREAKING
Hezbollah reportedly hit an Israeli military HQ.
Heavy casualties claimed, with soldiers said to be trapped.Israel is reportedly restricting images. pic.twitter.com/imhi2S573l
— The Iran Observer (@tv_ir_X) April 30, 2026
تحقیق کے دوران ریورس امیج سرچ اور کی ورڈ سرچ کے ذریعے ویڈیو کے اصل ماخذ کا سراغ لگایا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہی ویڈیو 12 اپریل 2026 کو ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپلوڈ کی گئی تھی جس میں واضح کیا گیا تھا کہ یہ نیویارک سٹی میں لگنے والی ایک بڑی آگ کا منظر ہے۔
https://www.instagram.com/p/DXB0ePqjgGD/
مزید تحقیق سے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیو یارک کی رپورٹ سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ مین ہلٹن کے سیون ایونیو میں ایک خالی عمارت میں آگ لگی تھی جس پر فائر ڈیپارٹمنٹ نے کارروائی کی۔
اسی طرح اے ایم این وائے کی رپورٹ میں بھی تصدیق کی گئی کہ اس واقعے میں متعدد منزلوں پر آگ پھیلی اور فائر فائٹرز زخمی ہوئے۔
Early morning Manhattan blaze leaves four firefighters injured: FDNY
نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ (FDNY) کی جانب سے جاری کردہ معلومات اور تصاویر میں بھی اسی مقام اور واقعے کی تصدیق کی گئی جس سے واضح ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا منظر اسرائیل کا نہیں بلکہ امریکہ کے شہر نیویارک میں پیش آنے والے فائر حادثے کا ہے۔
نتیجتاً یہ دعویٰ کہ ویڈیو اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر پر حزب اللہ کے حملے کے بعد کی صورتحال دکھاتی ہے مکمل طور پر غلط ثابت ہوا۔ درحقیقت یہ ایک پرانا اور غیر متعلقہ فائر حادثے کا کلپ ہے جسے غلط سیاق و سباق میں سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔
فیکٹ چیک کے مطابق یہ خبر غلط (False) قرار دی گئی ہے اور صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے غیر تصدیق شدہ مواد کو شیئر کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








