اہم قیدی سخت نگرانی میں! اکیلے نہانے اور فون کالز پر پابندی؛ ظلم کی نئی مثال

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے ایک واقعے کے بعد گرفتار ملزم کے حوالے سے قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں اس کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ جیل میں اس پر عائد سوسائیڈ پری کاشنز (خودکشی سے بچاؤ) کی پابندیاں ختم کی جائیں۔

الزام کے مطابق کوئل ٹوماس ایلن نامی شخص نے 25 اپریل کو وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر کے مقام کے باہر سکیورٹی چیک پوائنٹ پر دھاوا بولا اور وہاں شاٹ گن سے فائرنگ کی۔ اسے ایک ایسے واقعے سے جوڑا جا رہا ہے جس میں مبینہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق 27 اپریل کو جیل منتقل کیے جانے کے بعد اسے ابتدائی طور پر ایک سیف سیل میں رکھا گیا جو کہ نرم دیواروں والا کمرہ ہوتا ہے اور اس میں سخت نگرانی کے تحت 24 گھنٹے بند رکھنے کے اقدامات شامل ہوتے ہیں۔ اس دوران اسے ایک مخصوص حفاظتی جیکٹ بھی پہنائی گئی جو زنجیروں جیسی کیفیت رکھتی ہے۔

بعد ازاں اس کی حیثیت تبدیل کرکے سوسائیڈ پری کاشنز کر دی گئی جس کے تحت اسے فون کالز کرنے، ملاقاتوں اور جیل کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی گئی، سوائے وکلاء سے ملاقات یا نگران کے ساتھ نہانے جانے کے۔ قانونی دستاویزات کے مطابق ایک نرس نے جمعہ کے روز ان پابندیوں کے خاتمے کی سفارش کی تھی تاہم اس کے باوجود یہ برقرار رہیں۔

وکلاء کا موقف ہے کہ یہ پابندیاں دراصل ایک قسم کی سزا کے مترادف ہیں اور اس سے ملزم کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے جیسے کہ جیل کا ٹیبلیٹ استعمال کرنا جس کے ذریعے وہ اپنے اہل خانہ سے رابطہ کر سکتا ہے۔

دستاویزات کے مطابق کوئل ٹوماس ایلن پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں صدر کے قتل کی کوشش، پرتشدد جرم کے دوران فائرنگ اور ریاستی حدود کے پار غیر قانونی طور پر اسلحہ اور گولہ بارود منتقل کرنا شامل ہے تاہم اس نے ابھی تک عدالت میں کوئی باقاعدہ اعترافِ جرم یا جواب داخل نہیں کیا ہے۔

Related Posts