غیر قانونی ہی نہیں بلکہ سیکیورٹی رسک بھی!جانیں کانسٹی ٹیوشن ایونیو اسکینڈل کے حقائق

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے میں واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اسکینڈل ایک ایسا 20 سال پرانا تنازع ہے جو غیر ادا شدہ واجبات، مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور 200 سے زائد خاندانوں کی اچانک بے دخلی تک جا پہنچا۔ یہ معاملہ اب بھی ملک بھر میں قانونی اور انتظامی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔

1. آغاز کیسے ہوا: ہوٹل کے منصوبے سے لگژری فلیٹس تک سفر

9 مارچ 2005 کو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے کنسٹی ٹیوشن ایونیو پر 13.5 ایکڑ قیمتی زمین بی این پی گروپ کو 4.88 ارب روپے میں نیلام کی۔ معاہدے کے مطابق اس زمین پر 99 سالہ لیز کے تحت ایک فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر کیا جانا تھا۔

اسی سال سی ڈی اے نے ابتدائی ادائیگی کے بعد زمین کا قبضہ بھی دے دیا لیکن بعد میں منصوبے کا رخ بدل دیا گیا۔ ہوٹل کے بجائے یہاں 22 منزلہ ون کنسٹی ٹیوشن ایونیو کے دو ٹاورز تعمیر ہوئے اور 250 سے زائد لگژری اپارٹمنٹس نجی خریداروں کو فروخت کر دیے گئے۔ ان خریداروں میں سابق وزیراعظم عمران خان، سابق نگران وزیراعظم ناصرالملک اور معروف وکیل اعتزاز احسن جیسے نام بھی شامل رہے۔

سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ ہوٹل کے بجائے رہائشی اپارٹمنٹس کی تعمیر معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

2. مالی بحران: 21 سال کی عدم ادائیگی

اس تنازع کی بڑی وجہ صرف منصوبے کی تبدیلی نہیں بلکہ ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر بھی ہے۔

اصل معاہدے کے مطابق 4.88 ارب روپے 2026 تک اقساط میں ادا کیے جانے تھے لیکن 2016 میں سی ڈی اے نے لیز منسوخ کر دی۔ بعد ازاں 2019 میں سپریم کورٹ نے لیز بحال کرتے ہوئے بی این پی کی ذمہ داری بڑھا کر 17.5 ارب روپے کر دی جس کی ادائیگی 8 سال میں کرنا تھی۔

اب تک صرف 2.9 ارب روپے ادا کیے گئے ہیں جو کل رقم کا تقریباً 16.6 فیصد بنتا ہے۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ مکمل ملکیت صرف مکمل ادائیگی سے مشروط تھی اور کمپنی دو دہائیوں سے ڈیفالٹ کر رہی ہے۔

3. رہائشیوں کا معاملہ: درمیان میں پھنسے لوگ

2010 سے 2020 کے دوران سینکڑوں افراد نے یہاں اپارٹمنٹس خریدے۔ ان کا موقف ہے کہ سی ڈی اے نے خود بلڈنگ پلان اور این او سی جاری کیا تھا، اس لیے خریداری قانونی لگتی تھی۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اصل تنازع سی ڈی اے اور ڈویلپر کے درمیان ہے اور اس کی سزا عام خریداروں کو نہیں ملنی چاہیے لیکن سی ڈی اے کا موقف ہے کہ اگر لیز ہی کالعدم ہو جائے تو اس پر ہونے والی تمام فروخت بھی غیر موثر تصور ہوگی۔

4. اچانک بے دخلی: آدھی رات کی کارروائی

30 اپریل 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے بی این پی کی درخواست مسترد کر دی۔ فیصلے کے چند گھنٹوں بعد سی ڈی اے اور پولیس نے عمارت میں کارروائی شروع کر دی اور رہائشیوں کو آدھی رات تک عمارت خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ رہائشیوں کے مطابق رات گئے پولیس دروازے کھٹکھٹاتی رہی اور اگلے دن بجلی بھی بند کرنے کی تیاری تھی۔

اس اچانک کارروائی پر شدید ردعمل سامنے آیا کیونکہ کئی خاندانوں کے پاس متبادل رہائش موجود نہیں تھی اور انہیں کوئی پیشگی نوٹس بھی نہیں دیا گیا۔

5. سیکیورٹی پہلو: معاملہ مزید حساس کیسے ہوا

اس تنازع میں اس وقت نیا پہلو شامل ہوا جب 12 اپریل 2026 کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے قریبی سیرینا ہوٹل میں امریکہ ایران جنگ بندی مذاکرات کی قیادت کی۔

صحافی طلعت حسین کے مطابق اس عمارت سے حاصل ہونے والی ویڈیوز میں قریبی سفارت خانوں اور سیرینا ہوٹل کے اندرونی حصے تک واضح منظر دکھائی دے رہا تھا جسے انہوں نے سنجیدہ سیکیورٹی خطرہ قرار دیا اگرچہ قانونی کیس بنیادی طور پر واجبات کی عدم ادائیگی پر ہے لیکن سیکیورٹی خدشات نے فوری کارروائی کے دباؤ کو بڑھا دیا۔

6. موجودہ صورتحال

2 مئی کو وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی جس کی سربراہی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

فی الحال سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کو مزید کارروائی سے روک دیا گیا ہے اور متاثرہ رہائشیوں کو اپنے موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔

یہ تنازع دراصل ایک ایسے منصوبے کی کہانی ہے جہاں سرکاری زمین پر لگژری ہاؤسنگ تعمیر کی گئی جس کی ادائیگیاں مکمل نہیں ہو سکیں اور اجازت نامے جاری ہوتے رہے اب دو دہائیوں بعد خریدار ایک ایسے قانونی اور سیکیورٹی بحران کے درمیان پھنس گئے ہیں جس کا حتمی حل ابھی باقی ہے۔

Related Posts