سمندر کے گہرے پانیوں میں رہنے والا آکٹوپس اپنی ذہانت، رنگ بدلنے کی صلاحیت اور پراسرار فطرت کی وجہ سے ہمیشہ انسانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ سمندری جاندار نہ صرف اپنے ماحول میں چھپنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ شکار کرنے کے منفرد انداز کی وجہ سے اسے سمندر کے خطرناک ترین شکاریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق آکٹوپس کی زندگی اگرچہ بظاہر پرکشش اور حیرت انگیز دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ انتہائی مختصر اور مشکلات سے بھری ہوتی ہے۔ زیادہ تر آکٹوپس چند سال ہی زندہ رہتے ہیں اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ چھپ کر یا مسلسل خطرات سے بچتے ہوئے گزارتے ہیں۔
دلچسپ مگر تشویشناک بات یہ ہے کہ مادہ آکٹوپس انڈے دینے کے بعد تقریباً مکمل طور پر اپنی خوراک ترک کر دیتی ہے اور اپنے بچوں کی حفاظت میں ہی اپنی زندگی ختم کر دیتی ہے۔ اس دوران نر آکٹوپس بھی افزائش نسل کے فوراً بعد کمزوری اور قدرتی عمل کے باعث موت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔
ہوتا کچھ یوں ہے کہ جنسی عمل کے بعد نر آکٹوپس کا دماغ آہستہ آہستہ کام کرنا بند کردیتا ہے اور وہ سمندر میں بے مقصد گھومنا پھرنا شروع کردیتا ہے اور اپنی زندگی کی پروا نہیں کرتا اور پھر سمندر کا کوئی بڑا شکاری اسے کھا کر اپنے پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کرلیتا ہے، یوں بے شمار نئی زندگیوں کو جنم دینے والا باپ ایک دردناک موت مر جاتا ہے۔
دوسری جانب نئے آکٹوپس جنم دینے کیلئے گہرے پانیوں میں موجود کسی غار میں آکٹوپس ماں 500 سے زائد انڈے دیتی ہے اور پھر ان کی مکمل حفاظت کیلئے وہیں رہنا شروع کردیتی ہے۔ وہ مستقل طور پر ان انڈوں پر تازہ پانی ڈالتی رہتی ہے تاکہ انڈوں تک آکسیجن پہنچتی رہے لیکن خود کئی ماہ تک کچھ نہیں کھاتی۔
بھوک کی وجہ سے آکٹوپس ماں کے جسم میں فاقہ کشی کے نتائج ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور شدید بھوک اسے توڑ ڈالتی ہے جس کے نتیجے میں اس کے جسم کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ایک مادہ آکٹوپس نے اسی طرح بغیر کچھ کھائے پیے اپنے بچوں کی حفاظت کیلئے مسلسل 53 مہینے یعنی ساڑھے چار سال بھوک کے ساتھ گزارے۔
لیکن جب ماں اور باپ کی بے مثال قربانی سے ننھے منے آکٹوپس ان انڈوں سے نکلتے ہیں اور نئی زندگیاں وجود میں آتی ہیں تو ان کی ماں پہلے ہی مرچکی ہوتی ہے اور پھر ان کی حفاظت کیلئے ماں یا باپ میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچتا۔ یوں یہ تنہا آکٹو پس بچے سمندر میں تیرنا شروع کردیتے ہیں لیکن زیادہ تر ابتدائی دنوں میں ہی کسی بڑے جانور کا شکار بن جاتے ہیں۔
زیادہ تر آکٹوپس ختم ہوجانے کے بعد ہزاروں میں سے چند ایک آکٹوپس ہی اپنی زندگی بچا پاتے ہیں اور یوں چند آکٹوپس بچانے کیلئے بے شمار زندگیوں کی قربانی دینے والی یہ ذہین سمندری مخلوق اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے باوجود ایک خاموش، محدود اور دردناک زندگی گزارتی ہے، جو قدرتی نظام کی ایک تلخ مگر حقیقت پر مبنی تصویر پیش کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








