شوگر ملز مالکان نے ایک بار پھر چینی کی برآمد کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں اور حکومت سے 10 لاکھ ٹن چینی بیرونِ ملک فروخت کرنے کی اجازت طلب کر لی ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی رہورٹس کے مطابق شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کو چینی کی پیداوار اور دستیاب ذخائر سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار بھی فراہم کر دیے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں چینی کی مجموعی پیداوار 78 لاکھ ٹن تک پہنچ چکی، جبکہ تقریباً 10 لاکھ ٹن چینی اضافی موجود ہے، جسے برآمد کرنے کی منظوری دی جانی چاہیے۔
دوسری جانب حکومت نے شوگر ملز اور کین کمشنر کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق شوگر ملز کی طرف سے ذخائر میں موجود 3 لاکھ ٹن درآمد شدہ چینی کو بھی شامل ظاہر کیے جانے کا شبہ ہے۔ اعداد و شمار کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی حتمی فیصلہ کرے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی شوگر ملز نے اضافی چینی کا دعویٰ کرتے ہوئے برآمد کی اجازت حاصل کی تھی، تاہم برآمدات کے بعد مقامی مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔ قلت کے باعث ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد حکومت کو طلب پوری کرنے کیلئے بیرونِ ملک سے چینی درآمد کرنا پڑی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








