قربانی کا جانور تو خریدنا دور اب کرایہ بھی دینا نا ممکن! ٹرانسپورٹرز کا دھماکہ خیز اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان مِنی مزدا ایسوسی ایشن نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد کرایوں میں 10 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی مہنگائی نے عام شہریوں اور گھریلو بجٹ کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے اور نئے اضافے سے روزمرہ سفر مزید مہنگا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر حاجی شیر علی نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز نے اس سے پہلے ڈیزل کی قیمت بڑھنے کے باوجود کرایوں میں اضافہ نہیں کیا تھا تاہم حالیہ قیمتوں کے دباؤ کے بعد اب مزید گنجائش باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی لاگت نے انہیں مجبور کر دیا ہے کہ وہ کرایوں میں اضافہ کریں کیونکہ گاڑیاں چلانا مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے جمعہ کے روز پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے اضافہ کر کے اسے 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر تک پہنچا دیا گیا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے بھی چند گھنٹے قبل مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں 4 فیصد اضافہ کیا تھا۔ تنظیم کے صدر ملک شہزاد اعوان نے خبردار کیا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کو ملک گیر ہڑتال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایک ٹریلر کے ایک چکر کی لاگت تقریباً دو لاکھ روپے بڑھ چکی ہے جبکہ ماہانہ اخراجات میں آٹھ لاکھ روپے تک اضافہ ہو گیا ہے جس کے باعث کاروبار نقصان میں چل رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق مال بردار اور مسافر ٹرانسپورٹ دونوں کی جانب سے ہونے والے ان دوہرے اضافوں کے اثرات پورے معاشی نظام پر پڑیں گے جس سے روزمرہ اشیاء اور نقل و حمل کی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔

قربانی عید کے قریب آنے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ اس موقع پر طلب بڑھنے کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات مہنگائی کے دباؤ کو مزید تیز کر سکتے ہیں جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار عوام متاثر ہوں گے۔

دونوں ٹرانسپورٹ تنظیموں نے حکومت کی پالیسیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مناسب سبسڈی اور ریلیف نہ دیا گیا تو پورا ٹرانسپورٹ نظام متاثر ہو سکتا ہے جس سے سپلائی چین رکنے اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔

Related Posts